Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

علاقائی کشیدگی پر سعودی عرب کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، الشرق الاوسط کی رپورٹ

ایران کے خلاف کی فوجی کارروائی میں فضائی حدود کے استعمال کو مسترد کیا۔(فوٹو: عرب نیوز)
سعودی عرب کے ایک اعلی عہدیدار نے ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ مملکت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔
عرب نیوز نے الشرق الاوسط میں اتوار کو شائع ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ذرائع نے اس بات پر زور دیا کہ ’سعودی عرب امریکہ اور ایران کے درمیان تمام تنازعات کے سفارت کاری اور بات چیت کے ذریعے پرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔‘
اس ذریعے نے مملکت کی جانب سے ایران کے خلاف کی بھی فوجی کارروائی میں اپنی فضائی حدود یا سرزمین کے استعمال کو مسترد کرنے کا اعادہ کیا۔
ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے منگل کو اس بات پر زور دیا تھا کہ ریاض، تہران کی خود مختاری کا احترام کرتا ہے اور مملکت اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ ٹیلی فونک رابطے میں انہوں نے سعودی عرب کی جانب سے کسی بھی کوشش کی سپورٹ پر زور دیا جس سے تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل دینے میں مدد ملے، جو خطے میں سلامتی اور استحکام کے فروغ کا باعث بنے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ولی عہد کے ساتھ  رابطے میں ایران کی صورت حال اور جوہری فائل کے بارے میں بات کی گئی۔
انہوں نے ایران کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام میں سعودی عرب کے مضبوط موقف پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے خطے میں سلامتی اور استحکام کے حصول میں سعودی ولی عہد کے کردار اور کوششوں کو بھی سراہا۔

 

شیئر: