Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستانی فیشن لیبل ’ماریہ بی‘ بنگلہ دیش میں پہلا بین الاقوامی خواتین ملبوسات کا برانڈ

ماریہ بی خواتین کی ملبوسات کے حوالے سے بنگلہ دیش میں پہلا بین الاقوامی و پاکستانی برینڈ بن گیا ہے۔ (فوٹو: ماریہ بی)
پاکستانی فیشن لیبل ماریہ بی نے رواں ہفتے ڈھاکہ میں اپنا پہلا آؤٹ لیٹ کھولا ہے، جس کے ساتھ ہی وہ بنگلہ دیش میں باضابطہ طور پر قدم رکھنے والا پہلا بین الاقوامی خواتین کا ملبوساتی برانڈ بن گیا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق بنگلہ دیش گارمنٹس کی پیداوار کے حوالے سے دنیا کے بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، مگر اس کے باوجود یہاں غیر ملکی ریٹیل فیشن برانڈز کی باقاعدہ موجودگی نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔
چین کے بعد دنیا کا دوسرا بڑا ملبوسات برآمد کرنے والا بنگلہ دیش عالمی سطح کے کئی معروف برانڈز کے لیے ریڈی میڈ گارمنٹس تیار کرتا ہے، تاہم ان برانڈز کی مصنوعات عموماً فیکٹری کے بچ جانے والے مال کی صورت میں مقامی مارکیٹ میں دستیاب ہوتی ہیں نہ کہ سرکاری سٹورز کے ذریعے۔
ڈھاکہ میں ماریہ بی کے آؤٹ لیٹ کا افتتاح بنگلہ دیشی فیشن مارکیٹ میں ایک نمایاں پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کا واحد غیر ملکی برانڈ جو بنگلہ دیش میں موجود ہے وہ جے ڈاٹ ہے، جو معروف گلوکار  جنید جمشید کی جانب سے شروع کیا گیا تھا۔
بنگلہ دیشی فیشن ڈیزائنر اور برانڈ اونر شہریار امین کے مطابق ماریہ بی جیسے برانڈ کی آمد اس بات کا ثبوت ہے کہ بنگلہ دیش کی صارف مارکیٹ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
Pakistani label Maria B enters Bangladesh as first international women’s brand
گزشتہ ہفتے ماریہ بی نے بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں اپنی پہلی آؤٹ لیٹ کا افتتاح کیا۔ (فوٹو: ماریہ بی)

ان کا کہنا تھا کہ اس آؤٹ لیٹ نے فیشن سے دلچسپی رکھنے والے افراد میں خاصی گہما گہمی پیدا کر دی ہے، اور ماریہ بی کا منفرد انداز دیگر ڈیزائنرز سے الگ پہچان رکھتا ہے۔
ماضی میں بنگلہ دیشی صارفین یہ ملبوسات دبئی، لندن، امریکا یا آن لائن پری آرڈرز کے ذریعے حاصل کرتے تھے۔
فیشن ڈیزائن کونسل آف بنگلہ دیش کی صدر ماہیـن خان نے اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈھاکہ ایک عالمی شہر ہے اور یہاں عالمی معیار کے برانڈز کی موجودگی خوش آئند ہے۔
فیشن کی نمایاں شخصیت ازرا محمود کے مطابق بین الاقوامی برانڈز کی آمد سے نہ صرف فیشن انڈسٹری کو فروغ ملے گا بلکہ مقامی مارکیٹ میں مسابقت بھی بڑھے گی۔

شیئر: