جب 2008 کے بیجنگ اولمپکس میں لیبرون جیمز بیٹس بائے ڈاکٹر ڈرے ہیڈفونز گلے میں ڈال کر منظرِ عام پر آئے تو اس وقت نسبتاً اس برانڈ کی مقبولیت راتوں رات آسمان کو چھو گئی تھی۔ اس کے بعد وہ ہیڈفونز صرف موسیقی سننے کا ذریعہ نہیں رہے بلکہ ایک سٹائل سٹیٹمنٹ بن گئے تھے۔
سی این این میں شائع حالیہ رپورٹ کے مطابق تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے بعد، ایک بار پھر ہیڈفونز کا ذکر فیشن میں زور و شور سے ہو رہا ہے، مگر اس بار منظر کچھ مختلف ہے۔ اب این بی اے کے ابھرتے ہوئے ستاروں سے لے کر تجربہ کار کھلاڑیوں اور ہالی وڈ سلیبریٹیز تک، سب کے کانوں میں ایک نئی پرانی چیز نظر آ رہی ہے اور وہ ہیں تار والے ایئر بڈز۔
مزید پڑھیں
-
اچھے ایئر فونز کے فیچرزNode ID: 462131
-
ایپل نے مصنوعی ذہانت کے لیے گوگل سے معاہدہ کیوں کیا؟Node ID: 899381
اینتھونی ایڈورڈز سے لے کر سٹیف کری تک، کئی بڑے نام وائرلیس چھوڑ کر دوبارہ وائرڈ ہیڈ فونز کی طرف لوٹ آئے ہیں۔
یہ رجحان صرف باسکٹ بال تک محدود نہیں رہا۔ ڈریک، لیلی روز ڈیپ، ہیری سٹائلز اور زینڈایا جیسے عالمی شہرت یافتہ ستارے بھی بلوٹوتھ سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے وائرڈ ہیڈفونز استعمال کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

ایما واٹسن نے 2023 میں ووگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ انہیں بس پرانے زمانے کے پلگ اِن والے ہیڈفونز پسند ہیں۔

اسی طرح، فیشن میگزین کے 'واٹس اِن دی بیگ' سیگمنٹس میں دوا لیپا اور آریانا گرانڈے بھی وائرڈ ایئر بڈز کی تعریف کرتی نظر آئیں۔
دسمبر میں نیو یارک میگزین کے سرورق پر بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا، جہاں کئی مشہور شخصیات نیویارک کی سب وے میں ایک دوسرے کے ساتھ وائرڈ ہیڈفونز شیئر کرتی دکھائی گئیں۔

ان میں بین سٹِلر اور نیویارک نِکس کے سٹار کارل-انتھونی ٹاؤنز جیسے نام بھی شامل تھے۔
انسٹاگرام پر وائرڈ اٹ گرلز نامی اکاؤنٹ کی بانی شیلبي ہل، 2021 سے اس رجحان کی غیر رسمی آواز بن چکی ہیں۔ وہ نہ صرف اس رجحان کو دستاویزی شکل دیتی ہیں بلکہ اسے ایک ثقافتی بحالی سمجتھی ہیں۔
لاس اینجلس میں مقیم ہل نے یہ اکاؤنٹ اس وقت شروع کیا جب انہوں نے ووگ کی ایک سینئر رائٹر لیانا سیٹن سٹائن کا مضمون پڑھا، جس میں ماڈل بیلا حدید کے سادہ وائرڈ ہیڈفون پہننے کی تعریف کی گئی تھی۔
یہ بات ہل کے دل کو لگ گئی۔ جب سیٹن سٹائن نے بعد میں ایک ایسے انسٹاگرام اکاؤنٹ کی تجویز دی جو اس رجحان کو مکمل طور پر کور کرے، تو ہل نے فوراً اس پر کام شروع کر دیا اور پہلا پوسٹ بیلا حدید ہی کے بارے میں تھا۔
ہل کے مطابق، 'وہ بلاشبہ پیسے والی ہیں، ایئرپوڈز خرید سکتی ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ ہمیشہ تار والے ہیڈفونز ہی استعمال کرتی رہی۔ اس میں ایک خاص قسم کی بے نیازی تھی، بہت کول، بہت لاپرواہ، جیسے انہیں جدید ٹیکنالوجی کے پیچھے دوڑنے کی کوئی پرواہ نہ ہو۔'
ہل کہتی ہیں کہ یہی رویہ وائرڈ ‘It Girl’ کو عام It Girl سے الگ کرتا ہے۔ کیمبرج ڈکشنری کے مطابق It Girl وہ نوجوان خاتون ہوتی ہے جو پارٹیز اور سماجی تقریبات میں اکثر نظر آئے، مگر وائرڈ It Girl مہنگی چیزوں کی نمائش کے بجائے سادگی میں وقار دکھاتی ہے۔

جہاں ایک برکن بیگ خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں، وہیں وائرڈ ہیڈفونز جو اس وقت ایپل کی ویب سائٹ پر تقریباً 25 ڈالر میں دستیاب ہیں ہر کسی کو خاموش مگر مؤثر فیشن اپنانے کا موقع دیتے ہیں۔
اس کے برعکس، ایپل کے تازہ ترین ایئرپوڈز کی قیمت 159 ڈالر سے شروع ہوتی ہے، جبکہ Max اور ائیر ماڈلز کی قیمت 669 ڈالر تک جا پہنچتی ہے۔
مہنگی قیمت، مشہور شخصیات کی تائید، اور مختلف ثقافتی رجحانات، جو خامیوں کو قبول کرنے کا پیغام دیتے ہیں، سب نے مل کر اس ٹرینڈ کو غیر معمولی رفتار دے دی ہے۔
اثرورسوخ رکھنے والے کھلاڑیوں نے بھی اس رجحان کو فروغ دیا ہے۔ شکاگو بیئرز کے کوارٹر بیک کالیب ولیمز، جو میچ سے پہلے ماچا ڈرنک اور وائرڈ ہیڈفونز کے ساتھ نظر آتے ہیں، “Wired It Boys” کی ایک نئی سوچ کی نمائندگی کرتے ہیں۔

پٹسبرگ سٹییلرز کے بین سکوورنیک بھی فخر سے خود کو 'وائرڈ گائے' کہتے ہیں۔
این بی اے میں، سٹیڈیم کے اندر موجود سرنگیں اب ایک طرح کا فیشن رن وے بن چکی ہیں، جہاں کھلاڑی اپنے خاص انداز میں تیار ہو کر گزرتے ہیں۔ پچھلے سال نیویارک فیشن ویک میں بھی کئی باسکٹ بال کھلاڑی شریک ہوئے۔
این بی اے فیشن فٹس نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ کے بانی چاڈ براؤن کے مطابق، 'فیشن اور این بی اے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ دونوں ثقافت کا حصہ ہیں۔ جو کچھ اس دور میں چل رہا ہوتا ہے، وہی سرنگوں میں بھی نظر آتا ہے۔'
براؤن کا کہنا ہے کہ وائرڈ ہیڈفونز کی واپسی ان کی نظر سے اوجھل نہیں رہی۔ کرس پال، رسل ویسٹ بروک، کاوائی لیونارڈ اور کوپر فلیگ جیسے کئی کھلاڑی تار والے ہیڈفونز استعمال کرتے دکھائی دے چکے ہیں۔
یہ رجحان فیشن ہے یا عملی ضرورت، اس پر براؤن ابھی تک مکمل یقین سے کچھ نہیں کہتے۔
فلاڈیلفیا 76ers کے آندرے ڈرمنڈ نے ایک بار بتایا کہ وہ تقریباً 20 وائرلیس ایئر بڈز کھو چکے ہیں، جبکہ لاس اینجلس لیکرز کے مارکس سمارٹ نے حال ہی میں کہا کہ انہیں میچ سے پہلے وائرڈ ہیڈفونز زیادہ پسند ہیں۔
ان کے مطابق، 'بلوٹوتھ والے کبھی چلتے ہیں، کبھی نہیں۔ کبھی کنیکٹ ٹوٹ جاتا ہے، کبھی بیٹری ختم ہو جاتی ہے، کبھی گر جاتے ہیں، اور کبھی چارج کرنا ہی بھول جاتے ہیں۔'
براؤن ان مسائل سے مکمل اتفاق کرتے ہیں، مگر ان کے نزدیک فیشن کا پہلو خاص طور پر نوجوان کھلاڑیوں کے لیے زیادہ اہم ہے۔
وہ کہتے ہیں، 'ہر چیز ایک دائرے میں گھومتی ہے۔ یہ سب نوستالجیا ہے۔ یہ صرف ہیڈفون نہیں، ایک ایکسیسری ہے، لباس کا حصہ ہے۔ جو کھلاڑی حال ہی میں ڈرافٹ ہوا ہو، غالباً وہ وائرڈ ہیڈفونز ہی پہنے گا۔'













