ابلا ہوا انڈا یا آملیٹ، وزن کم کرنے کے لیے کس کا استعمال بہتر ہے؟
ابلا ہوا انڈا یا آملیٹ، وزن کم کرنے کے لیے کس کا استعمال بہتر ہے؟
اتوار 1 فروری 2026 6:04
پروٹین کے ساتھ ساتھ، اُبلے انڈے اہم غذائی اجزا بھی فراہم کرتے ہیں، جن میں وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور کولین شامل ہیں۔ (فوٹو: فری پک)
انڈے ناشتے کا لازمی جزو ہیں جن میں بھرپور غذائی خصوصیات ہوتی ہیں۔ چاہے آپ انہیں اُبال کر کھائیں یا آملیٹ کی صورت میں، دونوں انداز اپنے اپنے فوائد رکھتے ہیں۔ تاہم پروٹین کی مقدار اور وزن کم کرنے کی کوششوں کے حوالے سے ان دونوں کے درمیان فرق آپ کی توقع سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔
این ڈی ٹی وی کے مطابق کچھ لوگ آملیٹ کو زیادہ پسند کرتے ہیں، جبکہ کچھ اُبلے انڈے پر انحصار کرتے ہیں۔ تیاری کے طریقے اور اضافی اجزا غذائیت کو کس طرح بدلتے ہیں، یہ جاننا آپ کو ایسا انتخاب کرنے میں مدد دے سکتا ہے جو واقعی آپ کے صحت کے اہداف سے ہم آہنگ ہو۔
ذیل میں دونوں کے سائنسی پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا ہے تاکہ آپ فیصلہ کر سکیں کہ آپ کی پلیٹ پر مستقل جگہ کس کو ملنی چاہیے۔
اُبلا ہوا انڈا: سادہ، صاف اور پروٹین سے بھرپور
اُبلا ہوا انڈا انڈے کھانے کا سب سے سادہ طریقہ سمجھا جاتا ہے، کیونکہ اس میں پکانے کے دوران کوئی اضافی چیز شامل نہیں کی جاتی۔ نہ تیل، نہ دودھ اور نہ ہی مصالحہ، اس لیے اس کی کیلوریز صرف انڈے تک محدود رہتی ہیں۔ ایک بڑے اُبلے ہوئے انڈے میں تقریباً 6 سے 6.3 گرام مکمل پروٹین ہوتا ہے، جو جسم کے لیے تمام ضروری امینو ایسڈز فراہم کرتا ہے۔
جرنل آف دی امریکن کالج آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق جو افراد ناشتے میں انڈے کھاتے ہیں وہ زیادہ دیر تک پیٹ بھرا محسوس کرتے ہیں اور اگلے 24 گھنٹوں میں کم کیلوریز استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھوک پر قابو پانے یا وزن کم کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے اُبلے انڈے ایک قابلِ اعتماد انتخاب ہیں۔
پروٹین کے ساتھ ساتھ، اُبلے انڈے اہم غذائی اجزا بھی فراہم کرتے ہیں، جن میں وٹامن بی 12، وٹامن ڈی اور کولین شامل ہیں۔
اُبلے انڈے کو ترجیح دینے کی وجوہات
کیلوریز کی واضح اور کم مقدار
اضافی چکنائی شامل نہیں ہوتی
مقدار پر آسان کنٹرول
اُبلا ہوا انڈا انڈے کھانے کا سب سے سادہ طریقہ سمجھا جاتا ہے۔ (فوٹو: پکسابے)
آملیٹ: لذیذ، بھرپور اور حسبِ ضرورت
آملیٹ میں زیادہ ذائقے اور تنوع ہوتا ہے۔ بنیادی پروٹین وہی رہتا ہے، تقریباً 6 گرام فی انڈا۔ لیکن غذائیت کا مجموعی توازن استعمال ہونے والے اجزا کے مطابق بدل سکتا ہے۔ یہی چیز آملیٹ کو مختلف غذائی ضروریات کے مطابق ڈھالنے میں مدد دیتی ہے۔
تیاری کا طریقہ غذائیت کو کیسے بدلتا ہے؟
سادہ آملیٹ ہلکا اور صحت بخش رہ سکتا ہے، مگر کچھ اضافے اس کی کیلوریز تیزی سے بڑھا دیتے ہیں:
1 چائے کا چمچ تیل: تقریباً 40 اضافی کیلوریز
پنیر: چکنائی اور نمک میں اضافہ
پراسیسڈ گوشت: سیر شدہ چکنائی میں نمایاں اضافہ
سبزیاں: حجم، فائبر اور اینٹی آکسیڈنٹس فراہم کرتی ہیں
اگر آملیٹ کو کم سے کم تیل میں پکایا جائے اور اس میں پالک، شملہ مرچ، پیاز یا مشروم جیسی سبزیاں شامل کی جائیں تو یہ ایک متوازن غذا بن سکتا ہے، جو پروٹین کے ساتھ فائبر اور اہم مائیکرونیوٹرینٹس بھی فراہم کرتی ہے۔
سادہ آملیٹ ہلکا اور صحت بخش رہ سکتا ہے۔ (فوٹو: فری پک)
وزن کم کرنے کے لیے کون سا بہتر ہے؟
اگر آپ کیلوریز کا سخت حساب رکھتے ہیں تو اُبلا ہوا انڈا فطری طور پر بہتر انتخاب ہے۔ یہ سادہ، مقدار میں واضح اور پوشیدہ چکنائی سے پاک ہوتا ہے۔ تاہم ایک اچھی طرح تیار کیا گیا آملیٹ ایک اور فائدہ فراہم کرتا ہے: حجم۔ سبزیوں سے بھرا دو انڈوں کا آملیٹ زیادہ بھرپور محسوس ہوتا ہے، جس سے بھوک کم ہوتی ہے اور غی ضروری سنیکس سے بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے بعض ماہرینِ غذائیت دونوں طریقوں کو ضرورت کے مطابق باری باری استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔