Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان اور سعودی عرب اُبھرتی ہوئی علاقائی منڈیوں میں مشترکہ سرمایہ کاری کے خواہاں

سعودی نائب وزیر ابراہیم المبارک اور وزیرِ تجارت جام کمال کے درمیان مملکت میں ملاقات ہوئی (فوٹو:ایکس)
پاکستان اور سعودی عرب تیزی سے ابھرتی ہوئی علاقائی منڈیوں سے مشترکہ طور پر استفادہ کرنے اور اپنی پیداواری صلاحیتوں اور سرمائے کی قوت کو ہم آہنگ کرنے کے خواہاں ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق یہ بیان بدھ کے روز سعودی عرب کے نائب وزیر برائے سرمایہ کاری ابراہیم المبارک اور وزیرِ تجارت جام کمال خان کے درمیان مملکت میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری کیا گیا ہے۔
دونوں ممالک کے مابین طویل عرصے سے قریبی تعلقات قائم ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک ایک ہمہ جہت سٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں۔
گزشتہ برس اکتوبر میں دونوں ممالک نے ایک اقتصادی تعاون فریم ورک شروع کیا جس کا مقصد تعلقات کو امداد تک محدود رکھنے کے بجائے پائیدار تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی روابط کی جانب منتقل کرنا تھا۔
ایک ماہ قبل مشترکہ سکیورٹی معاہدہ بھی طے پایا تھا جس کے تحت ایک ملک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
وزارتِ تجارت پاکستان کی جانب سے ملاقات کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بات چیت کا اہم نتکہ وسطی ایشیا، افریقہ اور آسیان جیسی تیزی سے ابھرتی ہوئی علاقائی منڈیوں کی مشترکہ کھوج تھا جہاں تعاون کے بڑے مواقع موجود ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک نے اتفاق کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب اپنی اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھا کر ایک دوسرے کے ہم آہنگ شراکت دار بن سکتے ہیں۔
سعودی معاون وزیر برائے سرمایہ کاری ابراہیم المبارک نے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ، خاص طور پر چاول کے شعبے میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس سلسلے میں جدید مشینری کے استعمال، ذخیرہ کرنے کے نظام اور ترسیل کے بہتر انتظامات پر بات ہوئی تاکہ طویل مدت تک باقاعدہ برآمدات کو یقینی بنایا جا سکے۔
زرعی شعبے اور غذائی تحفظ کے وسیع تر تعاون پر بھی گفتگو ہوئی جس میں چاول، چارہ، گوشت اور دیگر زرعی اجناس شامل ہیں۔ اس کے ساتھ سعودی مالیاتی اداروں کی جانب سے برآمدات سے منسلک زرعی اور انفراسٹرکچر منصوبوں کی مالی معاونت کے امکانات پر بھی غور کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارپوریٹ فارمنگ اور جدید مشینی طریقوں کو کپاس جیسی فصلوں میں پیداوار کے مسائل کا طویل مدتی حل قرار دیا گیا۔
انسانی وسائل کی ترقی بھی اہم موضوع رہی۔ دونوں فریقین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ درمیانی درجے کی مہارتوں جیسے نرسز، تیماردار، ٹیکنیشن اور مہمان نواز عملے کی کمی پائی جاتی ہے۔
سعودی وزیر نے پاکستان میں پیشہ ورانہ تربیتی پروگراموں کو اپنانے کی آمادگی ظاہر کی، جو براہِ راست تربیت کو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع سے جوڑیں۔
ملاقات میں تعمیراتی سامان، ادویات سازی، کھیلوں کا سامان، جوتے اور ہلکی صنعتوں میں تعاون کے مواقع کا بھی جائزہ لیا گیا۔
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ مختلف شعبوں کے حوالے سے ورکشاپس اور کاروباری ملاقاتوں کا انعقاد کیا جائے تاکہ پالیسی سطح کی ہم آہنگی کو عملی تجارت اور سرمایہ کاری میں بدلا جا سکے۔

 

شیئر: