Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سندھ میں ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن کا آغاز، اوورسیز پاکستانیوں کے لیے سفارت خانوں میں سہولت

صوبائی کابینہ اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن کی منظوری دے دی گئی ہے (فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ سندھ کی حکومت نے جائیداد کی رجسٹریشن کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن سسٹم متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
اس نئے نظام کے تحت بیرون ملک مقیم پاکستانی اب پاکستانی سفارت خانوں اور مشنز کے ذریعے آن لائن سیل ڈیڈ کی تکمیل اور جائیداد کی خرید و فروخت کا عمل بآسانی مکمل کر سکیں گے، جس سے انہیں پاکستان آنے یا نمائندہ مقرر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے صوبائی کابینہ اجلاس میں اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن کی منظوری دے دی گئی ہے۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا نے اردو نیوز کو بتایا کہ کابینہ نے سندھ رجسٹریشن ایکٹ 1908 میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت سمندر پار پاکستانی اب آن لائن سیل ڈیڈ کی ایگزیکیوشن کر سکیں گے اور انہیں رجسٹریشن دفاتر میں ذاتی حاضری کی شرط سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے مطابق صوبے کے 49 سب رجسٹرار دفاتر کو نادرا کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے جس کے ذریعے ای رجسٹریشن سسٹم میں بائیومیٹرک اور چہرے کی تصدیق کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی اب پاکستانی سفارت خانوں اور مشنز میں جا کر ڈیڈز کی ایگزیکیوشن مکمل کر سکیں گے جبکہ صوبے بھر کے کسی بھی سب رجسٹرار آفس یا پیپلز سروس سینٹر سے بھی بایومیٹرک تصدیق کرانے کی اجازت ہو گی۔
ترجمان عبدالرشید چنا کے مطابق اس اقدام کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ اور جائیداد کی خرید و فروخت کے عمل کو شفاف اور محفوظ بنانا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے جعل سازی اور پراپرٹی فراڈ کے امکانات کم ہوں گے اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
’ہمارا وقت اور پیسہ دونوں بچیں گے‘
دبئی میں مقیم پاکستانی بزنس مین حیدر علی نے اردو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں جائیداد کی خرید و فروخت کے لیے پاکستان آنا یا پاور آف اٹارنی کے ذریعے نمائندہ مقرر کرنا پڑتا تھا جس میں قانونی پیچیدگیاں اور فراڈ کا خدشہ موجود رہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر اب ہم سفارت خانے جا کر بائیومیٹرک تصدیق کے بعد آن لائن سیل ڈیڈ مکمل کر سکتے ہیں تو یہ بہت بڑی سہولت ہے۔ اس سے ہمارا وقت اور پیسہ دونوں بچیں گے۔‘

اوورسیز پاکستانی سندھ کی پراپرٹی مارکیٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

برطانیہ میں مقیم پاکستانی نادرا مشتاق کا کہنا تھا کہ اوورسیز پاکستانی اکثر اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں مگر پیچیدہ نظام اور غیر یقینی صورتحال انہیں روکتی ہے۔ ڈیجیٹل رجسٹریشن سے شفافیت بڑھے گی اور ہمیں یہ اعتماد ملے گا کہ ہماری پراپرٹی محفوظ ہے۔
سعودی عرب میں مقیم انجینئر عرفان بھٹی کے مطابق اس اقدام سے نہ صرف موجودہ اوورسیز پاکستانیوں کو فائدہ ہو گا بلکہ نئی سرمایہ کاری کی راہیں بھی کھلیں گی۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں سب سے زیادہ مسئلہ شناخت کی تصدیق اور دستاویزات کی پراسیسنگ میں تاخیر کا ہوتا تھا۔ اگر نادرا سے منسلک بایومیٹرک سسٹم متعارف ہو گیا ہے تو یہ ایک اچھا قدم ہے۔
’فراڈ کے امکانات کم ہو جائیں گے‘
کراچی میں رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ معروف ایجنٹ سید اقبال احمد نے اردو نیوز کو بتایا کہ اوورسیز پاکستانی سندھ کی پراپرٹی مارکیٹ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں مگر ماضی میں پیچیدہ قانونی عمل کے باعث کئی معاملات التوا کا شکار ہو جاتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اکثر کیسز میں پاور آف اٹارنی کے غلط استعمال یا جعلی دستاویزات کے مسائل سامنے آتے تھے۔ اگر بائیومیٹرک تصدیق لازمی ہوگی تو فراڈ کے امکانات نمایاں طور پر کم ہو جائیں گے۔‘
بلڈر ایسوسی ایشن کے ایک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈیجیٹل رجسٹریشن سے مارکیٹ میں اعتماد بحال ہو گا۔ اوورسیز سرمایہ کار اکثر ادائیگی تو کر دیتے ہیں مگر رجسٹریشن کے مرحلے پر قانونی پیچیدگیاں سامنے آتی ہیں۔ آن لائن ایگزیکیوشن اور نادرا سے تصدیق کے بعد معاملات زیادہ شفاف ہو جائیں گے، جس سے ہاؤسنگ اور کمرشل پراجیکٹس میں سرمایہ کاری بڑھے گی۔
حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے پراپرٹی کنسلٹنٹ واثق میمن کا کہنا تھا کہ یہ اقدام وقت کی ضرورت تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں لینڈ ریکارڈ اور رجسٹریشن کا نظام ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔ سندھ میں بھی اگر مکمل طور پر آن لائن اور مربوط نظام نافذ ہو گیا تو نہ صرف اوورسیز بلکہ مقامی شہریوں کو بھی فائدہ ہو گا۔
قانونی پس منظر اور نئی تبدیلی
اس سے قبل سندھ میں جائیداد کی رجسٹریشن کا عمل رجسٹریشن ایکٹ 1908 کے تحت انجام دیا جاتا تھا جس کے مطابق خریدار اور فروخت کنندہ دونوں کا متعلقہ سب رجسٹرار کے دفتر میں ذاتی طور پر پیش ہونا لازمی تھا۔ سیل ڈیڈ اور دیگر دستاویزات کاغذی شکل میں جمع کرائے جاتے اور گواہوں کی موجودگی میں انگوٹھوں کے نشانات ثبت کیے جاتے تھے۔

ماضی میں پیچیدہ قانونی عمل کے باعث کئی معاملات التوا کا شکار ہو جاتے تھے(فائل فوٹو: شٹرسٹاک)

اوورسیز پاکستانیوں کے لیے اس نظام میں براہ راست سہولت موجود نہیں تھی اور انہیں یا تو پاور آف اٹارنی کے ذریعے نمائندہ مقرر کرنا پڑتا یا خود پاکستان آ کر کارروائی مکمل کرنا ہوتی تھی۔
نئی ترمیم کے بعد ای رجسٹریشن سسٹم کو نادرا کے ڈیٹا بیس سے منسلک کر کے بائیومیٹرک اور چہرے کی تصدیق کو قانونی حیثیت دی جا رہی ہے، جس سے آن لائن سیل ڈیڈ کی ایگزیکیوشن ممکن ہو سکے گی۔
ماہرین کے مطابق بیرون ملک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلات زر پاکستان بھیجتے ہیں جن کا ایک حصہ جائیداد میں سرمایہ کاری کی صورت میں استعمال ہوتا ہے۔ اگر رجسٹریشن کا عمل آسان اور شفاف ہو جائے تو سندھ میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو نئی تحریک مل سکتی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹلائزیشن سے نہ صرف پراپرٹی فراڈ میں کمی آئے گی بلکہ سرکاری ریونیو میں بھی اضافہ متوقع ہے کیونکہ ہر لین دین کا ریکارڈ آن لائن محفوظ ہوگا اور اس کی نگرانی مؤثر انداز میں کی جا سکے گی۔
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ عبدالرشید چنا کے مطابق کابینہ اجلاس میں اس اقدام کو اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی سہولت قرار دیا گیا ہے اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کی جائیں۔
حکومت کا موقف ہے کہ ڈیجیٹل پراپرٹی رجسٹریشن نظام نہ صرف سمندر پار پاکستانیوں کے لیے آسانی پیدا کرے گا بلکہ سندھ میں سرمایہ کاری کے ماحول کو بھی بہتر بنائے گا۔

شیئر: