پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی کا عملی استعمال، ’ایچ ایس-1‘ نے معلومات بھیجنا شروع کر دیں
پاکستان میں خلائی ٹیکنالوجی کا عملی استعمال، ’ایچ ایس-1‘ نے معلومات بھیجنا شروع کر دیں
جمعرات 12 فروری 2026 14:20
بشیر چوہدری، اردو نیوز۔ اسلام آباد
حکام کے مطابق یہ سیٹلائٹ معدنی وسائل کی تلاش میں بھی کام آئے گا۔ فائل فوٹو: اے پی پی
پاکستان کا پہلا ہائپر سپیکٹرل سیٹلائٹ ’ایچ ایس-1‘ اب باقاعدہ طور پر زمین کی تصاویر اور سائنسی معلومات بھیجنا شروع کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں خلائی ٹیکنالوجی کے عام اور عملی استعمال کا ایک نیا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔
یہ سیٹلائٹ 19 اکتوبر 2025 کو خلا میں بھیجا گیا تھا اور ابتدائی ٹیسٹ مکمل کرنے کے بعد اب سرکاری اداروں کو مرحلہ وار ڈیٹا فراہم کر رہا ہے۔
اس سیٹلائٹ کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عام سیٹلائٹس سے کہیں زیادہ تفصیل کے ساتھ زمین کا جائزہ لے سکتا ہے۔ یہ سو سے زیادہ مختلف زاویوں سے زمین سے منعکس ہونے والی روشنی کو دیکھتا اور اس کا تجزیہ کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں یہ صرف تصویر نہیں لیتا بلکہ تصویر کے اندر چھپی معلومات بھی بتاتا ہے۔ اس کے ذریعے مٹی کی حالت، پانی کی مقدار، پودوں کی صحت اور زمین کے اندر موجود معدنیات کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے فصلوں میں غذائی کمی یا بیماری کی ابتدائی علامات کا بروقت پتا چلایا جا سکے گا۔ زمین میں نمی کی صورتحال اور زمین کے ساخت میں ہونے والی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بھی معلوم کی جا سکیں گی۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ زرعی شعبے کو ہوگا۔ گندم، کپاس، چاول اور گنے جیسی اہم فصلوں کی صحت اور متوقع پیداوار کا پہلے سے اندازہ لگایا جا سکے گا۔ اس سے کسانوں کو بہتر رہنمائی ملے گی اور حکومت کو بھی درآمدات اور برآمدات کے فیصلے کرنے میں آسانی ہو گی۔
اسی طرح جنگلات کی کٹائی، غیرقانونی قبضوں اور زمین کے استعمال میں تبدیلیوں کی نگرانی بھی ممکن ہوگی جو ماحول کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔
قدرتی آفات کے معاملے میں بھی یہ سیٹلائٹ مددگار ثابت ہوگا۔ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، خشک سالی یا سمندری طوفان کی صورت میں متاثرہ علاقوں کی فوری نشاندہی اور نقصان کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ اس مقصد کے لیے سپارکو ایک ایسا نظام بنا رہا ہے جو قومی اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کو قریباً فوری معلومات فراہم کرے گا۔
یہ سیٹلائٹ معدنی وسائل کی تلاش میں بھی کام آئے گا۔ زمین میں موجود مختلف معدنیات کی نشاندہی نسبتاً آسان ہو جائے گی، جس سے معدنی شعبے میں تحقیق اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔ ساحلی علاقوں اور سمندر کے پانی کے معیار کی نگرانی بھی ممکن ہوگی۔
حکومت نے اس سیٹلائٹ کے مؤثر استعمال کے لیے ایک جامع نظام بنایا ہے۔ سپارکو مختلف وفاقی اور صوبائی محکموں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ سیٹلائٹ ڈیٹا کو باقاعدہ طور پر حکومتی منصوبہ بندی اور پالیسی سازی کا حصہ بنایا جا سکے۔ مختلف وزارتوں کے ساتھ معاہدے کیے جا رہے ہیں اور ڈیجیٹل پورٹل متعارف کروائے جا رہے ہیں جہاں سے متعلقہ ادارے اپنی ضرورت کے مطابق تصاویر اور رپورٹس حاصل کر سکیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے فصلوں میں بیماری کی ابتدائی علامات کا بروقت پتا چلایا جا سکے گا۔ فائل فوٹو: اے پی پی
اس کے ساتھ ساتھ جامعات، تحقیقاتی اداروں اور سرکاری افسران کو تربیت بھی دی جا رہی ہے تاکہ وہ اس جدید ڈیٹا کو سمجھ کر عملی طور پر استعمال کر سکیں۔ حکام کے مطابق مقصد صرف تصاویر فراہم کرنا نہیں بلکہ اس معلومات کو پالیسی سازی اور زمین پر عملی طور پر کام کا حصہ بنانا ہے۔
وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ’ایچ ایس-1‘ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا زراعت، ماحولیات، قدرتی وسائل اور آفات سے نمٹنے کے شعبوں میں سائنسی بنیادوں پر بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے گا۔ سپارکو اس وقت حکومتوں، جامعات اور ریسرچ اداروں کے ساتھ مل کر اس ٹیکنالوجی کو ایک منظم اور مستقل نظام کا حصہ بنانے پر کام کر رہا ہے تاکہ خلائی ڈیٹا کا فائدہ عام شہری شعبوں تک پہنچایا جا سکے۔