سوات میں بچوں کی لڑائی کے بعد فائرنگ، قتل ہونے والے عطاء اللہ ایڈووکیٹ کون تھے؟
سوات میں بچوں کی لڑائی کے بعد فائرنگ، قتل ہونے والے عطاء اللہ ایڈووکیٹ کون تھے؟
جمعرات 12 فروری 2026 17:10
فیاض احمد، اردو نیوز۔ پشاور
پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث نو افراد کو گرفتار کر لیا ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں بدھ (11 فروری) کو فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں ایک شخص ہلاک اور آٹھ افراد زخمی ہوئے۔
سوات پولیس ترجمان کے مطابق ’سیدو کے علاقے میں فریقین کے درمیان فائرنگ کا واقعہ رونما ہوا، پہلے بچوں کی لڑائی ہوئی جس کے بعد خاندان کے بڑے اس میں کود پڑے۔‘
فریقین نے پہلے ڈنڈوں سے ایک دوسرے پر وار کیے۔ اس کے بعد ایک فریق کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔
پولیس ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ’جھگڑے کے دوران گولی لگنے سے ایک شخص موقعے پر دم توڑ گیا جبکہ مزید 8 افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘
تصادم میں زخمی ہونے والے افراد کو سیدو شریف ہسپتال میں داخل کیا گیا تاہم ہلاک ہونے والے شخص کی لاش لواحقین کے حوالے کر دی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق سیدو شریف میں پڑوسی بچوں میں معمولی بحث و تکرار ہوئی جس میں کچھ دیر بعد بڑے بھی آپس میں لڑ پڑے اور نوبت فائرنگ تک پہنچ گئی۔
پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ تفتیشی ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے واقعے میں ملوث نو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
’ملزمان سے واقعے میں استعمال ہونے والا آلۂ قتل پستول اور ڈنڈے برآمد کر لیے گئے ہیں۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عینی شاہدین کے بیانات بھی قلمبند کر لیے گئے ہیں۔‘
فائرنگ کی وجہ سے قتل ہونے والا شخص کون تھا؟
بچوں کے تنازع پر فائرنگ سے ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت عطاء اللہ ایڈووکیٹ کے نام سے ہوئی ہے۔
عطاء اللہ سوات کے سینئیر قانون دان ہونے کے ساتھ ساتھ قوم پرست رہنما بھی تھے۔ عطاء اللہ انسانی حقوق کے لیے سرگرم رہنے کی شہرت رکھتے تھے اور وہ سوات میں امن کے قیام کے لیے عوامی سطح پر چلنے والی تحریک کا بھی حصہ رہے۔
اس کے علاوہ وہ پشتون تحفظ موومنٹ کے سینئیر رہنما تھے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش ہورہی ہے (فائل فوٹو: اردو نیوز)
عطاء اللہ ایڈووکیٹ پشتو زبان میں شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی کے پشتو شعبے سے ماسٹر ز ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ اپنی کلاس کے گولڈ میڈلسٹ بھی تھے۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق فریقین کی لڑائی میں عطاء اللہ ایڈووکیٹ زخمی ہوئے تھے جبکہ بعد میں مخالف فریق کی جانب سے فائرنگ کا نشانہ بن گئے تھے۔
پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی ہر زاویے سے تفتیش ہورہی ہے۔
عطاء اللہ ایڈووکیٹ کی نماز جنازہ جمعرات کو ان کے آبائی علاقے میں ادا کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا بار کونسل نے عطاء اللہ ایڈووکیٹ کو دن دیہاڑے قتل کرنے کی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔
خیبر پختونخواہ بار کونسل نے عطاء اللہ جان ایڈووکیٹ کی بے دردی سے قتل کے واقعے پر پورے مالاکنڈ ڈویژن میں احتجاجاً 12 فروری کو عدالتی کارروائی سے بائیکاٹ کیا۔