Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پشاور میں مبینہ پولیس مقابلے ہلاک ہونے والے ’پینے گینگ‘ کے ٹارگٹ کلرز کون تھے؟

شہزادہ فہد نے کہا کہ پولیس کی فہرست میں مزید جرائم پیشہ گروپس موجود ہیں جن کے خلاف جلد کارروائی متوقع ہے (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر پشاور میں خوف اور دہشت کی علامت سمجھے جانے والے مبینہ ٹارگٹ کلر گینگ ’پینے گروپ‘ کے اہم ارکان ایک پولیس مقابلے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔
پشاور کے نواحی علاقے داؤدزئی میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران سنگین جرائم میں مطلوب نجم الحسن عرف پینے کے علاوہ اس گروپ کے چار ارکان بھی مارے گئے۔
چیف کیپیٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) پشاور ڈاکٹر میاں سعید نے اپنے بیان میں کہا کہ پینے گروپ پیشہ ور ٹارگٹ کلز تھے جن کے ہاتھوں اب تک 30 سے زائد افراد قتل ہو چکے ہیں جن میں پولیس اہلکار اور سیاسی و سماجی شخصیات شامل ہیں۔
سی سی پی او کے مطابق ’پینے گروپ نے معصوم شہریوں کا جینا حرام کر رکھا تھا، اس نیٹ ورک کا صفایا کر کے ان کی دہشت کو ختم کر دیا گیا ہے۔‘
پینے گروپ کس نے بنایا تھا؟ 
پشاور کے نواحی علاقے داوزئی سے تعلق رکھنے والے نجم الحسن پینے کے نام سے مشہور تھے۔ پینے کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ سپاری لے کر شہریوں کو قتل کرتا تھا۔
نجم الحسن نے جرائم کی دنیا میں قدم رکھا تو ان کے ساتھ دیگر جرائم پیشہ لوگ مل گئے جس کی وجہ سے اس گروہ کو  ’پینے گروپ‘ کہا جانے لگا۔
پشاور پولیس کے مطابق پینے گروپ چھوٹے موٹے جرائم کے بعد بڑے جرائم میں ملوث ہوا۔ اس گینگ نے پشاور سمیت دیگر اضلاع میں بھی پولیس کو نشانہ بنایا۔
سنگین جرائم میں مطلوب گروپ کے ارکان انسداد دہشت گردی کے مقدمات میں مطلوب تھے۔
پولیس کے مطابق پینے گروپ نے پیسے لے کر کئی معروف شخصیات کا قتل کیا تھا جبکہ یہ تاجروں اور سرمایہ کاروں سے بھی بھتہ لیتا تھا۔
دوادزئی کے ایک شہری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پینے گروپ کا علاقہ نو گو ایریا بنا ہوا تھا جہاں مسلح افراد ہر وقت گشت کرتے تھے۔
’ان کی دیگر گینگز کے ساتھ بھی دشمنی تھی، اسی لیے یہ ہر وقت مسلح نظر آتے تھے۔‘ 

اس سے قبل خطرناک گینگ ’آدمے اور لعلے گروپ‘ کےمطلوب کریمینلز پشاور پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارے جا چکے ہیں (فائل فوٹو: ویڈیو گریب)

چیف کیپیٹل سٹی پولیس افسر ڈاکٹر میاں سعید نے 12 دسمبر کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ پشاور میں جرائم پیشہ افراد کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’شہر میں ٹارگٹ کلر، بھتہ خور، قبضہ مافیا کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ ایسے تمام عناصر کے خلاف کارروائی ہو گی جن کی وجہ عام شہری کو تکلیف کا سامنا ہے۔‘
پشاور میں جرائم کی رپورٹنگ کرنے والے شہزادہ فہد نے اردو نیوز کو بتایا کہ ’پشاور میں چھ سے سات  بڑے گینگ موجود تھے۔ ان میں سے ایک پینے گروپ تھا۔ یہ گروپ چئیرمین ناظم کو قتل کرنے سمیت ٹارگٹ گلنگ کے متعدد مقدمات میں ملوث رہا جبکہ یہ خواجہ سراؤں سے بھتہ لینے اور انہیں قتل کرنے میں بھی ملوث ہیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’پینے گروپ نے گزشتہ برس پولیس اہلکار کو قتل کرکے ویڈیو پیغام میں ذمہ داری قبول کی تھی۔ گینگ کے سرغنہ نجم الحسن نے ویڈیو میں پولیس سمیت اپنے تمام دشمنوں کو قتل کی دھمکی دی تھی۔‘
شہزادہ فہد کا کہنا تھا کہ اس گروپ پر پشاور اور مضافات میں شہریوں کے زمینوں پر  قبضے کے الزامات بھی تھے۔ ’جرائم کے سنگین مقدمات کی وجہ سے یہ گینگ پولیس کے لیے ہاٹ ٹارگٹ تھا، جس کے لیے پولیس منصوبہ بندی کر رہی تھی۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ پولیس کی فہرست میں مزید جرائم پیشہ گروپس موجود ہیں جن کے خلاف جلد کارروائی متوقع ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل خطرناک گینگ ’آدمے اور لعلے گروپ‘ کے تمام مطلوب کریمینلز پشاور پولیس کے ساتھ مبینہ مقابلے میں مارے جا چکے ہیں -

شیئر: