’گرین ہیلمٹ کو بدنام کر رہے ہیں‘، پشاور میں راہزنوں کی بائیک رائیڈرز کے روپ میں وارداتیں
’گرین ہیلمٹ کو بدنام کر رہے ہیں‘، پشاور میں راہزنوں کی بائیک رائیڈرز کے روپ میں وارداتیں
بدھ 24 دسمبر 2025 7:01
فیاض احمد، اردو نیوز۔ پشاور
نوید خان کے مطابق پولیس رجسٹریشن کمپین میں تمام بائیکیا رائیڈرز کو تعاون کرنا چاہیے تاکہ ان کا ڈیٹا پولیس کے پاس موجود رہے۔ (فائل فوٹو: بائیکیا ڈاٹ کوم)
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں روزگار کے لیے شہریوں کی ایک بڑی تعداد بائیک رائیڈ سروس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے جس میں نوجوانوں سمیت بڑی عمر کے افراد بھی موٹرسائیکل چلا رہے ہیں۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق صرف پشاور میں دو ہزار سے زائد بائیکیا رائیڈر موجود ہیں تاہم ان کی رجسٹریشن نہ ہونے کی وجہ سے صحیح اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں۔
بائیکیا رائیڈر کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے ان میں جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہو گئے ہیں جو خود کو بائیکیا کے رائیڈر ظاہر کر کے شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔
پولیس کے مطابق اب تک 20 سے زائد مشتبہ بائیک رائیڈرز گرفتار کیے گئے ہیں جن میں سے 10 براہ راست راہزنی کی وارداتوں میں ملوث پائے گئے ہیں۔ ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق بائیک رائیڈرز شہریوں کو سواری کے لیے بٹھاتے ہیں اور پھر موقع ملتے ہی انہیں لوٹ لیتے ہیں۔
پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ ’گرفتار بائیک رائیڈرز پیشہ ور راہزن ہیں، جنہوں نے شناخت چھپانے کے لیے بائیک رائیڈرز کا روپ اختیار کیا ہوا ہے۔ بائیکیا رائیڈر سر پر ہیلمٹ پہننے کی وجہ سے پہچانے نہیں جاتے، اس لیے وہ خود کو بائیک رائیڈر ظاہر کرتے ہیں۔‘
بائیک رائیڈر کی رجسٹریشن لازمی قرار
پشاور میں بڑھتی وارداتوں کے باعث پولیس نے موٹرسائیکل رائیڈرز کی رجسٹریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے اردو نیوز کو بتایا کہ بائیک رائیڈر اپنے متعلقہ تھانوں میں رجسٹریشن کرائیں گے جس کی وجہ سے رائیڈر کی شناخت، نگرانی اور ٹریکنگ ممکن ہو سکے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے جلد ایپلکیشن بھی متعارف کی جائے گی جس کے بعد بائیک رائیڈر آن لائن رجسٹریشن کر سکیں گے۔
ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق پولیس رجسٹریشن نہ کرنے والے بائیک رائیڈر کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
اس حوالے سے بایئکیا سروس سے وابستہ رائیڈر نوید خان کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے رجسٹریشن کا عمل خوش آئند ہے، بائیک رائیڈرز کو قانون کے دائرے میں لانا ضروری ہے۔
پولیس کے مطابق اب تک 20 سے زائد مشتبہ بائیک رائیڈرز گرفتار کیے گئے ہیں۔ (فائل فوٹو: ایکس)
ان کا کہنا تھا کہ ’بائیک رایئڈر غریب طبقے سے تعلق رکھنے والے سفید پوش شہری ہیں جو موٹرسائیکل چلا کر دو وقت کی روٹی کما رہے ہیں۔ بائیکیا سروس ایک معزز پیشہ ہے اس سے سینکڑوں گھرانوں کا رزق جڑا ہوا ہے، راہزن گرین ہیلمٹ کے پیشے کو بدنام کر رہےہیں۔‘
نوید خان کے مطابق پولیس رجسٹریشن کمپین میں تمام بائیکیا رائیڈرز کو تعاون کرنا چاہیے تاکہ ان کا ڈیٹا پولیس کے پاس موجود رہے۔
واضح رہے کہ پولیس کی جانب سے سٹریٹ کرائم کے مقدمات میں مطلوب متعدد راہزن بھی گرفتار کیے گئے ہیں۔