Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

شاہی فرامین: نئے وزرا، پبلک پراسیکیوٹر اور گورنروں کا تقرر

کئی تقرریوں کا اعلان اور متعدد کو ان کے عہدوں سے سبکدوش کیا گیا ہے۔(فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے جمعرات کو متعدد شاہی فرامین جاری کیے ہیں۔
نئے وزرا، پبلک پراسیکیوٹر سمیت کئی تقرریوں کا اعلان اور متعدد کو ان کے عہدوں سے سبکدوش کیا گیا ہے۔
ایس پی اے کے مطابق شاہی فرمان کے تحت فہد بن عبدالجلیل آل سیف کو نیا وزیر سرمایہ کاری مقرر کیا گیا جبکہ وزیر سرمایہ کاری خالد بن عبدالعزیز الفالح کو عہدے سے ہٹا کر وزیر مملکت اور کابینہ کا رکن بنایا گیا ہے۔
شہزادہ ڈاکٹر بندر بن عبداللہ المشاری کو معاون وزیر داخلہ برائے ٹیکنالوجی کے عہدے سے سبکدوش کرکے بدرجہ وزیر وزیر داخلہ کا مشیر بنایا گیا ہے۔
ڈاکٹر خالد بن محمد الیوسف کو نیا پبلک پراسیکیرٹر مقرر کیا گیا جبکہ انہیں شکایات بورڈ( دیوان المظالم) کے سربراہ کے عہدے سے سبکدوش کیا گیا۔
شیخ سعود بن عبداللہ المعجب کو پبلک پراسیکیورٹر کے عہدے سے سبکدوش کرکے ایوان شاہی کا مشیر بنایا گیا ہے۔
شہزادی ھیفا بنت محمد بن سعود بن خالد کو  نائب وزیر سیاحت کے عہدے سے سبکدوش کرکے بدرجہ وزیر وزرا کونسل کے جنرل سیکرٹریٹ میں مشیر مقرر کیا گیا۔
شاہی فرمان کے تحت شہزادہ فہد بن سعد بن عبداللہ کو الباحہ ریجن کا نائب گورنر بنایا گیا، انہیں الدرعیہ کے گورنر کے عہدے سے سبکدوش کیا گیا ہے۔
شہزادہ راکان بن سلمان بن عبدالعزیز کو الدرعیہ کا گورنر مقرر کیا گیا جبکہ شہزادہ فواز بن سلطان بن عبدالعزیز طائف کے کمشنر مقرر کیے گئے ہیں۔
شہزادہ سعود بن نہار بن سعود کو مدینہ ریجن کا نائب گورنر مقرر کیا گیا،انہیں طائف کے کمشنر کے عہدے سے سبکدوش کیا گیا۔
ایک  شاہی فرمان کے تحت شہزادہ  محمد بن عبداللہ بن عبدالعزیز کو حدود الشمالیہ ریجن کا نائب گورنر بنایا گیا ہے۔
وزار کونسل جنرل سیکٹریریٹ کے مشیر عبد العزیز بن عبدالرحمن العریفی کو ان کے عہدے سے سبکدوش  کرکے نیشنل ڈیولپمنٹ فنڈ کا گورنر بنایا گیا۔
محمد بن مھنا بن عبدالعزیز المھنا کو معاون وزیر داخلہ برائے آپریشنز مقرر کیا گیا ہے۔ جبکہ انہیں نائب وزیر داخلہ برائے سکیورٹی امور کے عہدے سے سبکدوش کیا گیا۔
ڈاکٹر نجم بن عبداللہ الزید کو نائب وزیر انصاف کے عہدے سے سبکدوش کرکے  ایوان شاہی میں اعلی درجے کا مشیر مقرر کیا گیا۔
شیخ ڈاکٹرعلی بن احمد بن محمد الاحیدب کو بدرجہ وزیر شکایات بورڈ (دیوان المظالم) کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر خالد بن محمد بن ناصر الیوسف کو وزیر کے عہدے پر ڈپٹی اٹارنی جنرل مقرر کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر نجم بن عبداللہ الزید کو نائب وزیر انصاف کے عہدے سے ہٹایا گیا، انہیں بدرجہ وزیر ایوان شاہی کا مشیر مقرر کیا گیا۔
ھیثم بن عبدالرحمن بن عبداللہ  العوھلی کو نائب وزیر برائے کمیونیکشن اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے عہدے سے ہٹا کر کمیونیکیشن، سپییس اینڈ ٹیکنالوجی کمیشن کا گورنر بنایا گیا۔
ایک اور شاہی فرمان کے تحت عبداللہ بن احمد بن عبداللہ المغلوث کو میڈیا کا نائب وزیر مقرر کیا گیا۔
ایک شاہی فرمان کے تحت شہزادہ ڈاکٹر سعد بن سعود بن محمد بن عبدالعزیز کو مجلسِ شوریٰ کا رکن مقرر کیا گیا۔
ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس (مباحث) احمد بن عبدالعزیز بن البراہیم العیسیٰ کو صحت وجوہ کے باعث ان کی اپنی درخواست پر عہدے سے سبکدوش کیا گیا۔
 فیحان بن فہد بن غازی السہلی کو نیا ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس (مباحث) جبکہ سعد بن صالح بن محمد اللحیدان کو صدرِ ریاستی سلامتی دفتر میں مشیر تعینات کیا گیا۔
سلیمان بن محمد بن عبداللہ القناص اور عساف بن سالم بن فیصل ابو ثنین کو ایوان شاہی کا مشیر مقرر کیا گیا۔
انجینئر ثامر بن محمد بن قالط الحربی کو معاون وزیرداخلہ برائے ٹیکنالوجی امور جبکہ عبداللہ بن فہد بن محمد بن فارس کو وزارتِ داخلہ میں سکیرٹری سکیورٹی امورمقرر کیا گیا۔
انجینئر فواز بن زنعاف بن فواز السہلی کو جنرل اتھارٹی برائے ٹرانسپورٹ کا سربراہ، بدر بن براہیم بن براہیم السویلم کو نائب وزیر افرادی قوت،عبدالمحسن بن محمد بن حمود المزید کو نائب وزیر سیاحت  جبکہ ڈاکٹر سعد بن عواض بن رجا الحربی کو نائب وزیرعمومی تعلیم بنایا گیا ہے۔
میجر جنرل خالد بن محمد بن غالب الذویبی کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نائب چیف رائل گارڈ مقرر کیا گیا،میجر جنرل سلیمان بن عبدالعزیز بن ابراہیم المیمان کو لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی ہے۔

 

شیئر: