Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

مسجد الحرام: مطاف کا فرش گرمیوں میں بھی ٹھنڈا کس طرح رہتا ہے؟

سرد علاقوں کے مخصوص چٹانی پتھراستعمال کیے جاتے ہیں(فوٹو، ایس پی اے)
مسجدالحرام میں صحن مطاف میں استعمال کیا گیا سنگ مرمر موسم گرما میں عین دوپہر کے وقت بھی ٹھنڈا رہتا ہے۔ سعودی حکومت نے دنیا بھر سے آنے والے عازمین اور عمرہ زائرین کو ہرممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے ایسے سنگ مرمر کا انتخاب کیا جس سے سورج کی تپش میں بھی طواف کرنے والے قطعی طورپرگرمی محسوس نہ کریں۔
سعودی خبررساں ادارے ’ایس پی اے‘ کے مطابق صحن مطاف میں جہاں عمرہ زائرین اور عازمین حج بیت اللہ کا طواف کرتےہیں ایسے میں زمین گرم ہونے کی صورت میں کافی مشکل صورتحال کا سامنا ہوتا ہے۔
حکومت نے اس نکتے کو محسوس کرتے ہوئے جامع انداز میں کام کیا اور ایسے پتھر کا انتخاب کیا جو سرد علاقے کی چٹانوں میں پایا جاتا ہے۔
صحنِ مطاف کے لیے استعمال کیے جانے والے سنگ مرمر کی خصوصیت یہ ہے کہ اس پر جب سورج کی شعاعیں پڑتی ہیں تو صحن میں نصب یہ سنگ مرمر انہیں جذب کرنے کے بجائے منعکس کردیتے ہیں جس سے مطاف کا فرش گرم نہیں ہوتا اور زائرین و عازمین آرام وسکون سے طواف کے سات چکر مکمل کرنے کے بعد مقام ابراہیم ہر دو نوفل بھی ادا کرتے ہیں۔

فرش کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے بناوٹ بھی مخصوص اندازمیں کی گئی ہے (فوٹو، ایس پی اے)

مطاف کی بناوٹ بھی انجینئرنگ کا شہکار ہے جو گرمی کو منعکس کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ صحن میں مخصوص سنگ مرمر کی سلیٹوں کو اس طرح نصب کیا گیا ہے کہ ایک سلیٹ سے دوسری کے درمیان ہوا کے گزرنے کی جگہ رکھی گئی جس کی وجہ سے صحن کو مستقل بنیادوں پر ٹھنڈا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
خیال رہے ماضی میں صحن مطاف میں جب مخصوص سنگ مرمر نہیں لگے تھے اس وقت صحن دوپہر میں کافی گرم ہوجاتا تھا۔ اس حوالے سے زائرین کا کہنا تھا کہ انہیں دوپہر میں بھی گرمی کا قطعی احساس نہیں ہوتا۔

شیئر: