برطانیہ میں 12 سال کی بچی کے اغوا اور زیادتی کے جرم میں افغان پناہ گزین مجرم قرار
مجرم نے نے مقدمے سے قبل ایک مزید زیادتی کے الزام کا اعتراف بھی کیا تھا (فوٹو: آئی وی ٹی ایکس)
برطانیہ میں ایک افغان پناہ گزین کو 12 سالہ بچی کے اغوا اور اس سے زیادتی کے سنگین جرم میں عدالت نے مجرم قرار دے دیا ہے۔
امریکی نیوز چینل سی این این کے مطابق اس واقعے کے بعد متعلقہ قصبے میں احتجاجی مظاہرے ہوئے، جہاں مظاہرین سینٹ جارج کراس اور یونین فلیگ تھامے مرکزی شاہراہ پر مارچ کرتے رہے اور ’کشتیوں کو روکو‘ اور ’ہمیں ہمارا ملک واپس چاہیے‘ کے نعرے لگائے۔
وارک کراؤن کورٹ میں ملخیل نامی ملزم کو متفقہ طور پر زیادتی اور جنسی حملے کے دو الزامات میں قصوروار ٹھہرایا گیا۔ اس نے مقدمے سے قبل ایک مزید زیادتی کے الزام کا اعتراف بھی کیا تھا۔ جیوری نے اسے بچی کے اغوا اور واقعے کے دوران اس کی نازیبا ویڈیو بنانے کے جرم میں بھی مجرم قرار دیا۔
ملخیل نے عدالت کو بتایا کہ اس نے بچی کو کسی کام پر مجبور نہیں کیا اور نہ ہی اس کے خاندان کو دھمکایا، تاہم اس نے مختصر جنسی عمل کے دوران، مبینہ طور پر بچی کی خواہش پر، اس کی ویڈیو بنائی۔ ملخیل نے پولیس کو بتایا کہ اسے یقین تھا کہ بچی کی عمر 19 سال ہے اور یہ اس کی زندگی کا پہلا جنسی تعلق تھا، جس کی ابتدا اس کے بقول بچی نے خود کی۔
اسی مقدمے میں شریک ملزم محمد کبیر، جو افغان شہری ہے، کو جان بوجھ کر گلا دبانے، بچے کے اغوا کی کوشش اور جنسی جرم کی نیت سے جرم کرنے کے الزامات سے بری کر دیا گیا۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق کبیر کی عمر 24 سال ہے، تاہم اس نے جیوری کو بتایا کہ وہ 22 سال کا ہے۔ عدالت نے اسے اس بنیاد پر بری کیا کہ اس نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے متاثرہ بچی کو ہاتھ نہیں لگایا اور اس کے کوئی جنسی عزائم نہیں تھے۔
جیوری کو بتایا گیا کہ ملخیل زیادتی کے واقعات سے چار ماہ قبل برطانیہ پہنچا تھا اور اس نے افغانستان میں پیش آنے والے مسائل کے باعث امیگریشن کی درخواست دی تھی۔ تاہم مقدمے کے دوران یہ نہیں بتایا گیا کہ وہ برطانیہ چھوٹی کشتی کے ذریعے آیا تھا، یا یہ کہ محمد کبیر بھی کرسمس ڈے 2024 کو اسی طریقے سے برطانیہ میں داخل ہوا تھا۔
ملخیل کو عدالتی تحویل میں رکھا گیا ہے اور اسے سزا سنانے کی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔ اس موقع پر جج کرسٹینا مونٹگمری کے سی نے کہا کہ ’ملزم کو یقینی طور پر طویل قید کی سزا سنائی جائے گی، جس کے اختتام پر وہ خود بخود ملک بدری کا اہل ہو جائے گا۔‘
