پاکستان کے شہر کراچی میں ایک جیولری شاپ میں نقب زنوں نے رات کے وقت دکان کی عقبی دیوار توڑ کر 30 کروڑ روپے مالیت کا 606 تولے سونا، ہیرے اور 25 لاکھ روپے مالیت کے ہیرے چوری کر لیے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ چند دن قبل اورنگی ٹاؤن کی اقبال مارکیٹ میں واقع دکان میں پیش آیا۔
’دکان معمول کے مطابق 12 فروری کی رات بند کی گئی تھی، تاہم 14 فروری کی صبح جب دکان کھولی گئی تو معلوم ہوا کہ کسی نے دکان سے سونا، چاندی اور ہیرے سمیت نقدی چوری کرلی ہے۔‘
مزید پڑھیں
پولیس کو دیے گئے اپنے بیان میں دکان کے مالک ایوب خان نے کہا کہ دکان کھولنے پر معلوم ہوا کہ دکان میں موجود جیولری کے متعدد باکس خالی تھے اور پیچھے کی دیوار ٹوٹی ہوئی تھی۔
مالک کے مطابق اس چوری شدہ سامان میں جیولری شاپ کے ذاتی زیورات کے ساتھ ساتھ کسٹمرز کا بھی قیمتی سامان شامل تھا جس کی مجموعی مالیت تقریبا 30 کروڑ روپے بنتی ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ متاثرہ جیولر کی مدعیت میں اقبال مارکیٹ تھانے میں درج کیا گیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
پولیس نے سی سی ٹی وی فوٹیج، فرانزک شواہد اور دیگر تکنیکی ذرائع کو بروئے کار لا کر نقب زنوں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نقب زن ابتدا میں چھوٹے سوراخ کے ذریعے دکان میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم پھنس جانے کے بعد سوراخ کو بڑا کر کے دکان میں داخل ہوئے۔
نقب زنوں نے اپنے چہروں کو کپڑوں سے چھپایا اور کیمروں کو کور کرتے ہوئے واردات مکمل کی۔
پولیس کے مطابق یہ واردات انتہائی منصوبہ بندی کے تحت کی گئی تھی اور یہ پیشہ ورانہ چوروں کی کارکردگی ظاہر کرتی ہے۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ویسٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
وزیر داخلہ نے ہدایت کی ہے کہ واردات میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور لوٹے گئے سامان کی بازیابی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں۔ ساتھ ہی شہر میں جیولری مارکیٹس اور دیگر حساس تجارتی مراکز کی سیکیورٹی کو مزید سخت اور مؤثر بنانے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
یاد رہے کہ رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں کراچی کے علاقے ملیر سٹی گانچی مارکیٹ میں ایک سنار کی دکان میں نامعلوم ملزمان نے رات کے کسی پہر تجوری کے تالے توڑ کر واردات کی، جس میں دکان سے آدھا کلو سے زائد سونا اور پانچ لاکھ روپے نقدی مبینہ طور پر چوری کیا گیا۔

چوری شدہ سونے اور نقدی کی مجموعی مالیت تقریباً پونے تین کروڑ روپے بتائی گئی۔ پولیس کے مطابق دکان کے مالک اقبال نے صبح جب دکان کھولی تو واردات کا اندازہ ہوا اور فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔
پولیس کے کرائم سین یونٹ کو موقعے پر طلب کر کے شواہد اکٹھے کیے گئے اور تفصیلی تفتیش کا آغاز کیا گیا۔
ابتدائی تحقیقات میں پولیس نے مارکیٹ کے تین چوکیداروں کو حراست میں لے کر ان سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ ملزمان کس طرح دکان میں داخل ہوئے اور واردات میں کس کا تعاون شامل ہو سکتا ہے۔ پولیس حکام نے شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس واردات یا مشکوک سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر متعلقہ حکام سے رابطہ کریں تاکہ ملزمان تک جلد رسائی حاصل کی جا سکے۔












