Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

عمران خان کی ’بینائی میں بہتری‘ ، ڈاکٹرز کی بریفنگ کے بعد اپوزیشن کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ریڈ زون میں کئی روز سے جاری سیاسی کشیدگی کے دوران پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خیبر پختونخوا ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز میں جاری دھرنوں کے اچانک خاتمے نے ایک نئی سیاسی بحث کو جنم دیا ہے۔ 
اگرچہ سڑکوں پر قائم احتجاجی کیمپ سمیٹ لیے گئے اور بند راستے ٹریفک کے لیے کھول دیے گئے تاہم پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر اپوزیشن اتحاد کا دھرنا بدستور جاری ہے جہاں محمود خان اچکزئی اور علامہ راجا ناصر عباس کی قیادت میں ارکان اسمبلی موجود ہیں۔ 
تحریک انصاف اور اس کے اتحادیوں نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت اور انہیں جیل سے ہسپتال منتقل کرنے کے مطالبے پر احتجاج شروع کیا تھا۔ ریڈ زون میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے، پارلیمنٹ ہاؤس اور اطراف کی شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور سیاسی درجہ حرارت مسلسل بلند رہا۔
پارٹی قیادت کا موقف تھا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق شفاف اور مکمل میڈیکل رپورٹ فراہم کی جائے اور اگر ضرورت ہو تو انہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا جائے۔
تاہم پیر کی صبح خیبرپختونخوا ہاؤس کے باہر قائم دھرنا اچانک ختم کر دیا گیا، شرکا عمارت کے اندر چلے گئے اور کچھ ہی دیر بعد پارلیمنٹ لاجز میں موجود ارکان اسمبلی نے بھی احتجاج سمیٹ لیا۔
اس پیش رفت کو بعض حلقوں نے وقتی حکمتِ عملی قرار دیا جبکہ دیگر نے اسے اندرونی بے چینی کی علامت کے طور پر دیکھا۔
کیونکہ دھرنا ختم کرنے کے فوری بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کے پی ہاؤس میں ارکان صوبائی اسمبلی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔ بعض مقامات پر خبریں آئی تھیں کہ یہ اجلاس محمود خان اچکزئی نے طلب کیا ہے تاہم تحریک تحفظ آئین کے ترجمان نے ایسی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور دیگر ارکان پارلیمنٹ دھرنے پر موجود ہیں اور دھرنا ختم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ 
پارٹی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے پس منظر میں صرف سکیورٹی یا انتظامی عوامل نہیں بلکہ قیادت کے درمیان پائے جانے والے اختلافات بھی شامل ہیں۔  بعض رہنما سڑکوں پر دباؤ برقرار رکھنے کے حق میں تھے جبکہ دیگر کا خیال تھا کہ پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر آئینی اور سیاسی دباؤ زیادہ مؤثر طریقے سے ڈالا جا سکتا ہے۔ انہی اختلافات نے بالآخر احتجاج کی شکل بدلنے میں کردار ادا کیا۔
اسی تناظر میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے کردار پر بھی پارٹی کے اندر بحث جاری ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت کی جانب سے یہ پیشکش کی گئی تھی کہ جب عمران خان کا جیل میں طبی معائنہ ہو تو تحریک انصاف اپنی طرف سے کسی ایک نمائندے کو نامزد کر دے جو اس عمل کے دوران موجود ہو تاہم علیمہ خان نے اس تجویز کو مسترد کر دیا۔
پارٹی کے بعض حلقے اس فیصلے کو غیر ضروری سخت موقف قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ سیاسی معاملات میں لچک نہ دکھانے سے پارٹی اور عمران خان دونوں کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
خیبرپختونخوا ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور بعض رہنماؤں نے کھل کر رائے دی کہ فیصلوں کے اس انداز پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ آئندہ لائحہ عمل میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد طے کیا جائے گا (فوٹو:و یڈیو گریب)

ذرائع کے مطابق اسی اجلاس میں محمود خان اچکزئی اور راجا ناصر عباس کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔ کچھ شرکا نے الزام عائد کیا کہ وہ جان بوجھ کر احتجاج کو پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر تک محدود رکھے ہوئے ہیں اور سڑکوں پر موجود دباؤ کم کر دیا گیا ہے، جس سے احتجاج کی شدت متاثر ہوئی۔
 تاہم اپوزیشن اتحاد کے قریبی ذرائع اس تاثر کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے اندر جاری دھرنا زیادہ باوقار اور آئینی نوعیت کا ہے اور اس سے سیاسی پیغام زیادہ واضح انداز میں دیا جا سکتا ہے۔ 
تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے اس معاملے پر فی الحال محتاط رویہ اختیار کیا ہے۔ 
چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ آئندہ لائحہ عمل میڈیکل رپورٹ سامنے آنے کے بعد طے کیا جائے گا۔
دوسری جانب اپوزیشن رہنماؤں کو اس میڈیکل ٹیم کی جانب سے قریباً ڈیڑھ گھنٹے کی تفصیلی بریفنگ دی گئی جس نے عمران خان کا طبی معائنہ کیا۔ 
ذرائع کے مطابق بریفنگ میں بتایا گیا کہ پمز میں کیا جانے والا آنکھ کا علاج مثبت نتائج دکھا رہا ہے اور بینائی میں بہتری کے آثار نمایاں ہیں۔
ڈاکٹروں نے یہ بھی واضح کیا کہ آئندہ چند ہفتوں میں مزید پیش رفت متوقع ہے، تاہم مکمل بحالی کے لیے مسلسل طبی نگرانی ضروری ہو گی۔
اپوزیشن رہنماؤں نے بریفنگ کے بعد کہا کہ وہ تحریری میڈیکل رپورٹ کے منتظر ہیں اور اسی کی روشنی میں آئندہ کی حکمتِ عملی طے کی جائے گی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے آنے والے دنوں میں میڈیکل رپورٹ کا اجراء اور پارٹی قیادت کے باہمی رابطے اس سیاسی بحران کی سمت متعین کریں گے۔

شیئر: