Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

’کئی جانیں بچ سکتی تھیں‘، گل پلازہ آتشزدگی کے تحقیقاتی کمیشن کے سامنے متاثرین کے بیان

متاثرہ شہری محمد حفیظ نے بتایا کہ جب وہ پہنچے تو صرف ایک گاڑی آگ بجھا رہی تھی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں گل پلازہ  میں آتشزدگی کی تحقیقات کے لیے قائم جوڈیشل کمیشن نے متاثرہ خاندانوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل کی زیر صدارت ہونے والی اس نشست میں مرنے والے افراد کے اہلخانہ نے شرکت کی اور کمیشن کو پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ملاقات کے دوران متاثرین نے کمیشن کو پلازے میں آگ لگنے کے وقت کی صورتحال، ریسکیو کارروائی اور پیش آنے والی مشکلات سے متعلق اپنے بیانات قلمبند کرائے۔ کئی لواحقین نے بتایا کہ آگ اچانک شدت اختیار کر گئی تھی جس کے باعث عمارت میں موجود افراد کو باہر نکلنے میں دشواری پیش آئی۔
سانحہ میں مرنے والے ایک شہری کے بھائی عبدالعزیز نے کمیشن کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ رات تقریبا ساڑھے دس بجے گل پلازہ پہنچے تو وہاں ابتدائی طور پر فائر بریگیڈ کی صرف ایک گاڑی موجود تھی۔ ان کے بقول ان کی آنکھوں کے سامنے عمارت میں آگ بھڑک رہی تھی اور لوگ بلڈنگ میں پھنسے ہوئے تھے۔
کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے استفسار کیا کہ آیا جائے وقوعہ پر ایمبولینسز موجود تھیں یا نہیں۔ اس پر عبدالعزیز نے بتایا کہ ایمبولینسیں تو موقع پر کھڑی تھیں لیکن ان کے مطابق عمارت کے اندر جا کر لوگوں کو نکالنے کی کوشش دکھائی نہیں دی۔
آگ بجھانے کے طریقہ کار سے متعلق سوال پر عبدالعزیز نے بتایا کہ پانی یا کسی کیمیکل مادے کا استعمال کیا جا رہا تھا، تاہم شعلوں کی شدت کم نہیں ہو رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کافی دیر بعد آگ پر قابو پایا گیا تو عمارت کا ڈھانچہ کمزور ہو چکا تھا اور اس کے حصے گرنا شروع ہو گئے تھے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی۔
محمد حفیظ نے بتایا کہ جب وہ موقع پر پہنچے تو صرف ایک گاڑی آگ بجھا رہی تھی اور اندر سے چیخ و پکار کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ان کے مطابق فائر بریگیڈ کے پاس پانی کی کمی تھی اور اگر بروقت وسائل میسر ہوتے تو کئی جانیں بچ سکتی تھیں۔
متوفی سلیم کی بیٹی عروہ نے الزام لگایا کہ امدادی کارروائی سست تھی اور پانی ختم ہونے کے بعد دوسری گاڑی تاخیر سے آتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نکلے اور صرف ایک دروازہ کھلا دیکھا۔ پلازے میں مرنے والے عبدالحمید کی والدہ شہناز نے بتایا کہ ان کا بیٹا ایک بچے کو بچانے کی کوشش میں جان سے گیا۔ آگ کے باعث مرنے والے سعد کے والد سعید کے مطابق ان کا بیٹا دو افراد کو بچا کر واپس آیا مگر تیسری بار اندر جا کر واپس نہ لوٹا۔

کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے پوچھا کہ کیا وقوعہ پر ایمبولینسز موجود تھیں یا نہیں۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

دیگر متاثرین نے بھی دھوئیں کی شدت، آلات کی کمی، رکاوٹوں اور اعلانات نہ ہونے کی شکایات کیں۔ لواحقین نے کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ذمہ داران کا تعین کر کے آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
جوڈیشل کمیشن کے سربراہ جسٹس آغا فیصل نے متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا اور یقین دلایا کہ کمیشن تمام حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کا مقصد صرف ذمہ داران کا تعین کرنا نہیں بلکہ آئندہ ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر سفارشات مرتب کرنا بھی ہے تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

آتشزدگی اور تحقیقاتی کمیشن کا قیام

یہ افسوسناک واقعہ کراچی کے مصروف تجارتی علاقے صدر میں واقع گل پلازہ میں پیش آیا تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق عمارت میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی منزلوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عمارت میں موجود دکاندار، ملازمین اور خریدار شدید دھوئیں اور شعلوں کے باعث محصور ہوئے۔

گل پلازہ آتشزدگی میں 73 افراد کی جان چلی گئی تھی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ بجھانے کے لیے فائر بریگیڈ کی گاڑیاں موقع پر پہنچیں، تاہم آگ کی شدت کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔ کئی افراد کو زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا گیا جبکہ متعدد افراد جانبر نہ ہو سکے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سانحے میں کم از کم 73 افراد جان سے گئے جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔
واقعے کے بعد شہر بھر میں غم و غصے کی فضا دیکھنے میں آئی۔ شہری حلقوں اور سیاسی جماعتوں نے اس سانحے کو شہری انتظامیہ اور حفاظتی اقدامات کی ناکامی قرار دیا۔ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا، جس کے بعد حکومت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کا اعلان کیا۔

 

شیئر: