پاکستان یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غیر قانونی امیگریشن پر مشترکہ پابندی کیلئے کام کر رہا ہے: وزیرِاعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان غیر قانونی امیگریشن پر ’مشترکہ پابندی‘ عائد کرنے کے لیے اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
وزیراعظم نے یہ بات ویانا میں پاکستان، آسٹریا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
فورم سے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان غیر قانونی امیگریشن کے بالکل خلاف ہے اور یقین دہانی کرائی کہ حکومتِ پاکستان اپنے یورپی دوستوں، آسٹریا، فرانس اور جرمنی، کے ساتھ مل کر اس غیر قانونی ہجرت پر مشترکہ طور پر پابندی عائد کرنے اور اسے مکمل طور پر روکنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آسٹریا کی ’ہنرمند افرادی قوت کی طلب‘ کو اس کے تقاضوں کے مطابق بین الاقوامی سرٹیفکیشن کے تحت پورا کرے گا۔
خیال رہے ہر سال متعدد نوجوان پاکستانی بہتر روزگار کے مواقع کی امید میں غیر قانونی راستوں کے ذریعے ملک چھوڑ دیتے ہیں۔
2023 کی ایک تحقیق کے مطابق گزشتہ تین برسوں میں 24 ہزار پاکستانی غیر قانونی طور پر یورپی یونین کے ممالک میں داخل ہوئے۔
اپنے خطاب کے آغاز میں وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان اور آسٹریا کے درمیان طویل عرصے سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔
انہوں نے ان شعبوں کا بھی ذکر کیا جن میں دونوں ممالک فعال طور پر تعاون کر رہے ہیں، جن میں معدنیات اور کان کنی اور قابلِ تجدید توانائی شامل ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے آسٹریا کی قیادت سے ملاقاتیں کیں اور کہا کہ وہ ان مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں جدید تربیت کی ضرورت ہے، جس میں لیپ ٹاپس، مصنوعی ذہانت (AI) اور آئی ٹی پر مبنی اقدامات شامل ہیں۔
وزیراعظم شہباز نے مزید کہا کہ زراعت کے شعبے میں پاکستان کے پاس بہت بڑی صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے کہا، }یہاں آسٹریا ایک بہترین شراکت دار ثابت ہو سکتا ہے، جو پاکستان کو جدید ٹیکنالوجی اور تجربہ فراہم کرے تاکہ کینو کی پیداوار میں ویلیو ایڈیشن کیا جا سکے، مارملیڈ اور جوسز تیار کر کے انہیں آسٹریا، مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کے دیگر حصوں کو برآمد کیا جا سکے۔‘
