’چوروں نے چُھٹیاں اندر گزاریں‘، جرمن بینک میں فلمی سٹائل کی کروڑوں ڈالر کی ڈکیتی
’چوروں نے چُھٹیاں اندر گزاریں‘، جرمن بینک میں فلمی سٹائل کی کروڑوں ڈالر کی ڈکیتی
بدھ 31 دسمبر 2025 8:50
جرمنی میں چوروں نے اسی انداز میں نقب لگا کر کروڑوں کی نقدی، سونا اور دوسرا سامان لوٹ لیا جیسا کہ ہالی وڈ کی مشہور فلم ’اوشنز الیون‘ میں دکھایا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس اور بینک حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ واقعہ شہر گیلسن کیرچن میں کرسمس کی چھٹیوں کے دوران رات کے وقت پیش آیا جس کے لیے دیوار میں نقب لگائی گئی اور لاکرز کھولنے کے لیے ڈرلز کا استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق لوٹی گئی رقم اور قیمتی اشیا کی کل مالیت ساڑھے تین کروڑ ڈالر سے زائد بنتی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لوہا کاٹنے والی آریوں اور ڈرل مشینوں کی مدد سے تین ہزار سے زائد لاکرز کو توڑا۔
چور کامیاب واردات کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے اور ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزموں کی تلاش شروع کر دی گئی ہے اور شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب واردات کی خبر سامنے آئے ہی بڑی تعدد میں کسٹمر بینک کی متاثرہ برانچ پہنچے اور شدید احتجاج کرتے ہوئے تفصیلات فراہم کیے جانے کا مطالبہ کیا۔
پولیس کے مطابق ’ڈاکو پارکنگ گیراج سے سپارکیس سیونگ بینک کے زیر زمین والٹ روم میں گھسے۔
بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’واقعہ کرسمس کی چھٹیوں کے دوران پیش آیا جس میں کسٹمرز کے تین ہزار دو سو 50 ڈیپازٹ باکسز میں سے 95 فیصد کو توڑا گیا۔‘
جرمنی میں پچھلے ہفتے جمعرات اور جمعے کو تمام کاروباری مراکز بند تھے جبکہ سنیچر اور اتوار کو ویک اینڈ تھا، تفتیش کاروں کو شبہ ہے کہ چوروں نے کرسمس کی چھٹیاں اور ویک اینڈ بینک کے اندر ہی گزارے اور اس دوران لاکرز کو کھولتے رہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ ’کسٹمرز کے تین ہزار دو سو 50 ڈیپازٹ باکسز میں سے 95 فیصد کو توڑا گیا۔‘ (فوٹو: اے ایف پی)
واردات کا علم پیر کے روز اس وقت ہوا جب صبح کے وقت ایک فائر الارم بج اٹھا اور اہلکاروں کے پہنچنے پر ان کو دیوار میں بہت بڑا سوراخ دیکھنے کو ملا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ عینی شاہدین نے بتایا کہ سنیچر اور اتوار کی رات ان کو کئی ایسے افراد دکھائی دیے جو پارکنگ گیراج کی سیڑھیوں پر بڑے بڑے بیگ اٹھائے جا رہے تھے۔
سکیورٹی کیمروں میں محفوظ ویڈیو میں پیر کی صبح ایک سیاہ رنگ کی اوڈی آر ایس سکس گاڑی کو نکلتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کے اندر نقاب پوش افراد موجود تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ کار کا سراغ لگانے پر پتہ چلا اس پر لگی نمبر پلیٹ ایک اور گاڑی کی تھی جو ہینوور شہر سے چوری ہوئی تھی۔
ایک پولیس افسر نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’واردات کو انتہائی پیشہ ورانہ طریقے سے انجام دیا گیا اور وہ مشہور فلم ’اوشنز الیون‘ میں دکھائے گئے طریقہ کار سے مشابہہ ہے، اور اس کے لیے بہت بڑی منصوبہ بندی کی گئی۔‘
رپورٹ کے مطابق واقعہ کرسمس کی چھٹیوں کے دوران سپارکیس سیونگ بینک میں پیش آیا (فوٹو: اے پی)
پولیس کے مطابق تقریباً اوسط لاکرز کی مالیت 10 ہزار یوروز کے برابر تھی اور اسی وجہ سے مجموعی نقصان کی لاگت ساڑھے تین کروڑ ڈالر سے زائد بنتی ہے۔
بہت سے متاثرین کا کہنا ہے کہ ان کے لاکرز میں موجود سامان کی مالیت بیمے کی رقم سے کہیں زیادہ تھی۔
پولیس کے مطابق بڑی تعداد میں ’ناراض کسٹمر‘ بینک کے سامنے پہنچے جو کہ سکیورٹی وجوہاٹ کی بنا پر نہیں کھلا تھا۔‘
بینک کا کہنا ہے کہ صارفین کے لیے ایک ہاٹ لائن قائم کر دی گئی ہے اور انشورنس کمپنی کے ساتھ مل کر کام کیا جا رہا ہے۔