ریاض میں سعودی، امریکی بایو ٹیکنالوجی الائنس کا دوسرا اجلاس
مشترکہ اجلاس میں خصوصی سائنسی پروگرام بھی شامل تھا (فوٹو، ایس پی اے)
وزارتِ سرمایہ کاری اور نیشنل گارڈ کے شعبہ صحت کے زیر اہتمام ریاض میں جدید تحقیق اورعلاج کے حوالے سے سعودی، امریکی بایو ٹیکنالوجی الائنس کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا۔
سعودی خبررساں ادارے (ایس پی اے) کے مطابق مذکورہ اجلاس گزشتہ ماہ امریکہ کے شہرسان فرانسسکو میں ہونے والی کانفرنس کا تسلسل ہے، جس کا مقصد بایو ٹیکنالوجی کے شعبے میں دونوں ممالک کے مابین سٹریٹجک تعاون کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی سرمایہ کاری اتھارٹی کے چیف ایگزیکٹو خالد الخطاف نے کہا سعودی، امریکی شراکت داری بایو ٹیکنالوجی کی ترقی، علم اور جدت کی تیز تر منتقلی اور صحت کے نظام کو بہتر بنانے میں اہم کردارادا کرے گی۔
وزارتِ نیشنل گارڈ کے شعبہ صحت کے ایگزیکٹو ڈائریکٹراور شاہ سعود بن عبدالعزیز یونیورسٹی برائے ہیلتھ سائنسز کے صدر ڈاکٹر بندر القناوی کا کہنا تھا کہ یہ اجلاس تعاون کے منصوبوں کی تیاری اور جدید امیونو تھراپی اور کینسرکی تشخیص سے متعلق ترجیحات طے کرنے کے لیے ایک عملی پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے جس میں دونوں ممالک کے طبی اور تحقیقی ادارے شریک ہیں۔
شاہ خالد سپیشلسٹ ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر ماجد الفیاض نے کہا کہ یہ الائنس جدید اور ذاتی نوعیت کے علاج کو فروغ دینے کی جانب اہم قدم ہے، جس کے ذریعے بایو ٹیکنالوجی کی مدد سے زیادہ موثرعلاج ممکن ہوگا۔
اجلاس میں خصوصی سائنسی پروگرام بھی شامل تھا، جس میں کینسر کے جدید علاج، بایو لوجیکل ادویات کی تیاری، جدید تشخیصی ٹیکنالوجی اور کلینکل ٹرائلز میں ہونے والی پیش رفت پر مفید گفتگو بھی کی گئی۔