Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

تحریک تحفظ آئین کا پارلیمان کے اندر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان،  ’ذاتی معالج کی رسائی تک احتجاج جاری رہے گا‘

اپوزیشن اتحاد ’تحریک تحفظ آئین پاکستان‘ نے اپنے مطالبات کی منظوری تک پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ کے پی ہاؤس کے باہر بھی پاکستان تحریک انصاف کے اراکین نے دوبارہ سڑک پر بیٹھ کر احتجاج شروع کر دیا ہے۔
اپوزیشن اتحاد کے اہم اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس میں گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے واضح کیا کہ مشاورت کا عمل جاری ہے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے، تاہم ایک بات طے ہے کہ مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہے گا۔
 ان کا کہنا تھا کہ بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ عمران خان کے ذاتی معالج کو ان تک رسائی دی جائے تاکہ ان کی صحت کا آزادانہ معائنہ ممکن ہو سکے۔
اس کے علاوہ پارٹی رہنماؤں اور اہل خانہ کی ملاقات بھی یقینی بنائی جائے۔ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر اپوزیشن ارکان نے دوبارہ نعرے بازی کی۔
اس سے قبل ہونے والے مشاورتی اجلاس میں اراکین نے سوشل میڈیا پر جاری مبینہ پروپیگنڈا مہم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ خاص طور پر بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور بعض رہنماؤں کے خلاف بیانیے پر ناراضی سامنے آئی۔
اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ پارٹی معاملات کون چلائے گا؟ علیمہ خان اور خاندان یا سیاسی کمیٹی معاملات دیکھے گی؟ جنید اکبر اور شہریار آفریدی سمیت متعدد اراکین نے کہا کہ وہ تین روز سے دھرنے میں شریک ہیں لیکن اس کے باوجود سوشل میڈیا پر انہی کے خلاف مہم چلائی جا رہی ہے، جو پارٹی نظم و ضبط کے لیے نقصان دہ ہے۔
دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے کے پی ہاؤس کے باہر بھی احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ تقریباً 90 کے قریب پارلیمنٹیرینز اس وقت کے پی ہاؤس میں موجود ہیں اور اراکین ایک بار پھر سڑک پر بیٹھ کر نعرے بازی کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سہیل آفریدی نے ہدایت دی ہے کہ جب تک محمود خان اچکزئی باضابطہ طور پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان نہیں کرتے، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔
اس سے قبل تحریک انصاف کے رہنماؤں نے کے پی ہاؤس اور پارلیمنٹ لاجز سے دھرنے اچانک ختم کر دیے تھے۔ جس کے بارے میں اطلاعات تھیں کہ پارٹی کے اندرونی اختلافات، تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں کے ساتھ عدم روابط اور علیمہ خان کی جانب سے پارٹی سے یکسر مختلف موقف اپنائے جانے کے باعث دھرنے ختم کیے گئے تھے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے اندر جاری دھرنے میں محمود خان اچکزئی، علامہ ناصر عباس، اسد قیصر اور سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنما شریک ہیں۔ بیرسٹر گوہر کے مطابق دھرنا ختم کرنے کا اعلان محمود خان اچکزئی کریں گے جبکہ بانی چیئرمین کی میڈیکل رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رپورٹ منظر عام پر لائی جائے گی اور اس کی بنیاد پر آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن اتحاد کی پارلیمانی پارٹی کا ایک اہم اجلاس منگل کی صبح پارلیمنٹ ہاؤس میں طلب کیا گیا ہے جس کی صدارت محمود خان اچکزئی کریں گے۔ اجلاس میں تمام پارلیمنٹیرینز کو باضابطہ دعوت دی گئی ہے اور توقع ہے کہ اس میں آئندہ سیاسی حکمت عملی، دھرنے کے مستقبل اور بانی چیئرمین کی طبی رپورٹ پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

 

شیئر: