الباحہ ریجن میں چٹانی پتھروں سے بنی قدیم عمارتیں اور فصیلیں، خاص کیا؟
ریجن میں آج بھی پتھروں سے بنی قدیم عمارتیں اور فصیلیں موجود ہیں (فوٹو: ایس پی اے)
الباحہ ریجن میں چٹانی پتھروں کی تعمیرات سعودی ریاست کی ابتدائی ادوار کی یاد کو تازہ کرتی ہیں۔
سعودی خبررساں ادارے کے مطابق ریجن میں آج بھی پتھروں سے بنی قدیم عمارتیں اور فصیلیں موجود ہیں جو معاشرتی تنظیم اور یکجہتی کی علامت ہیں۔
چٹانی پتھروں سے بنی یہ عمارتیں سروت اور تھامہ پہاڑ کی چوٹیوں پر موجود ہیں جنہیں علاقے کی آب وہوا اور ماحول کے مطابق تعمیر کیا گیا تھا۔

ان عمارتوں کی تعمیر کے لیے علاقے میں پائے جانے والے چٹانی پتھروں کا استعمال کیا گیا جو فن روایتی فنِ تعمیر کی پائیداری کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
ذی عین نامی تاریخی قصبہ ان چٹانی پتھروں کی عمارتوں کے حوالے سے غیرمعمولی شہرت رکھتا ہے۔
یہاں بنے مکان پہاڑی ڈھلوانوں پر انتہائی مہارت سے اس انداز میں تعمیر کیے گئے کہ زرعی علاقہ مکینوں کے سامنے رہے۔

الاطاولہ قصبہ بھی اپنے روایتی فن تعمیر کا امین ہے۔ یہاں بنے مکانات کے ڈیزائن پرائیوسی کے ساتھ سماجی رابطے کے حوالے سے انتہائی منفرد ہیں۔
بن رقوش کا محل اس زمانے میں امن اور ادارہ جاتی فصیل کے طور پر کام کرتا تھا جو نظام کو مستحکم رکھنے کے لیے انتہائی اہم تھا۔
مملکت کے یوم تاسیس کے موقع پر ان قدیم تعمیراتی نشانیوں کی اہمیت کو اجاگر کیا جارہا ہے جو ماضی کو حال سے جوڑتی ہیں۔
