Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

پاکستان ہاکی ٹیم کو سہولیات کا فقدان: حکومت کا نوٹس، تحقیقات کا آغاز

پاکستان ہاکی ٹیم پرو لیگ میں شرکت کے لیے آسٹریلیا میں موجود ہے (فائل فوٹو: پاکستان ہاکی ٹیم)
ہاکی پرو لیگ کے سلسلے میں پاکستان ہاکی ٹیم کے حالیہ دورۂ آسٹریلیا کے دوران انتظامی بدانتظامی کا انکشافات ہونے کے بعد معاملہ سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔
منظرِعام پر آنے والی ویڈیوز میں قومی کھلاڑی بنیادی سہولیات سے محروم دکھائی نظر آئے، جس کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کے دعوے سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔
سامنے آنے والی ویڈیوز میں سہولیات کی کمی کے واضح شواہد سامنے آچکے ہیں۔
اس صورت حال نے ہاکی ٹیم کے معاملات میں انتظامی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے جبکہ 25 کروڑ روپے کے بجٹ کے استعمال پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
دورۂ آسٹریلیا کے دوران پیش آنے والے واقعات کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کی کارکردگی پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور کھیل کے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے کہ قومی کھیل کے ساتھ یہ رویہ ناقابلِ قبول ہے۔
ادھر وزیرِاعظم شہباز شریف نے میڈیا میں سامنے آنے والی بدانتظامی کی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کی جائے گی۔
وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ رانا ثنا اللہ نے بھی حالیہ دورے کے دوران پاکستان ہاکی فیڈریشن کی مبینہ بدانتظامی کا سخت نوٹس لیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’انتظامیہ کے اقدامات نے نہ صرف کھیل بلکہ ملک کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔‘
رانا ثنا اللہ نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایسا طرزِ عمل ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘
وفاقی وزیر نے خبردار کیا کہ ’بدانتظامی میں ملوث افراد کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا اور ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزارت کے دفتر کی جانب سے باضابطہ انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ذمہ داران کو قانون کے مطابق نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔‘
حکومت نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں کھیلوں کے فروغ اور شفاف نظام کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کی جا سکے۔

شیئر: