کراچی سے تعلق رکھنے والے معروف دانشور، شاعر، نقاد سلیم احمد مرحوم کے کئی دلچسپ فقرے مشہور ہو کر ضرب المثل کی سی حیثیت اختیار کر گئے۔ ان میں سے ایک جملہ تھا ’شاعری پورا آدمی مانگتی ہے۔‘
مقصد یہ بتانا تھا کہ اچھی شاعری کرنا ایک فل ٹائم کام ہے اور اس میں بہت کھپنا پڑتا ہے، زندگی لگانا پڑتی ہے، ایسا نہیں کہ پارٹ ٹائم کچھ وقت نکال کر چند شعر کہہ ڈالے۔
سلیم احمد کا ایک اور فقرہ ہے جو انہوں نے خاص نظریاتی حوالے سے کہا، اپنے بارے میں ایک کالم میں لکھا ’کہیں خدانخواستہ آپ کو یہ غلط فہمی تو نہیں ہوگئی کہ میں غیر جانبدار انسان ہوں؟‘
مزید پڑھیں
-
’ہم جنگ اچھی کرتے ہیں‘، پاکستان کی شکست پر شائقین کرکٹ کے تبصرےNode ID: 900700
-
اس کھیلنے سے بہتر تھا بائیکاٹ ترا، عامر خاکوانی کا تجزیہNode ID: 900701
اس کا مطلب بھی یہ بتانا تھا کہ مطلق غیر جانبداری کوئی چیز نہیں اور ہر سوچنے سمجھنے والے آدمی کی کوئی نہ کوئی رائے لازمی ہوتی ہے۔ وہ اپنی رائے سے دست بردار نہیں ہوسکتا اور نہ ہی دماغ پر تالا لگا کر ایک پرفیکٹ نیوٹرل بن سکتا۔
شاعروں، دانشوروں اور نقادوں کی باتوں کو کھیل پر فٹ کرنا پتہ نہیں کس حد تک درست ہے مگر سلیم احمد کی غیر جانبداری والی بات کو میں کھیل اور قومی ٹیم پر بھی لاگو سمجھتا ہوں۔
کچھ لوگ بڑے فخر اور خوشی سے یہ کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میچز دیکھنے بند کر دییے ہیں، وہ میرے جیسے کرکٹ لورز کو بھی ایک شان بے نیازی اور دانشورانہ تفاخر کے ساتھ یہی مشورہ دیتے ہیں۔
ان سے میرا یہ سوال ہے کہ کیا پاکستانی ٹیم کی ایسی ذلت انگیز شکست سے وہ بے نیاز رہ سکتے ہیں؟
میچ دیکھیں یا نہ دیکھیں، اس کی خبر تو ان تک پہنچ ہی جاتی ہے تو کیا انہیں تب دکھ اور افسوس نہیں ہوتا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ قومی ٹیم اپنے روایتی حریف انڈیا سے یوں پٹ جائے اور یہ خبر آپ کو تکلیف نہ دے؟ آپ اسی ملک میں رہتے ہیں ناں، مریخ تو شفٹ نہیں ہو گئے؟ اگر اوورسیز پاکستانی ہیں تب بھی ملک کی یہ خبریں آپ کو دکھی، پریشان اور خوش کرتی ہی ہیں۔ یہ سب فطری ہے۔
مجھے کالم نگاری کرتے اکیس بائیس سال ہوگئے، اس دوران اوورسیز پاکستانیوں سے بہت واسطہ پڑا۔ ایک زمانے میں جب ای میلز کا رواج تھا تو بہت بار کسی کالم پر محاورتاً نہیں بلکہ حقیقتاً اِن باکس ای میلز سے بھر جاتا تھا۔
اب تو خیر سوشل میڈیا کا زمانہ ہے، لوگ ڈائریکٹ فیس بک، ایکس یا واٹس ایپ گروپوں میں رائے کا اظہار کر دیتے ہیں۔ فوری اپنے دل کی بھڑاس نکال دیتے ہیں۔

میں نے محسوس کیا کہ جو لوگ بیس پچیس سال پہلے پاکستان سے امریکہ، یورپ وغیرہ شفٹ ہو گئے ہیں، وہاں کی شہریت لے لی، ان کے بچے بھی وہاں پیدا ہوئے اور وہیں کے نیشنل ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان ان لوگوں کے اندر سے نہیں نکلا۔ اپنے مغربی سماج میں بھی وہ پاکستانی بورن یعنی پاکستانی نژاد ہی کہلاتے ہیں۔
یہ اوورسیز پاکستانی کسی نہ کسی طرح پاکستان سے جڑے رہتے، خبریں پڑھ/ سُن کر دل جلاتے ہیں مگر یہ ایسا تعلق تھا جسے وہ چھوڑ نہیں سکتے۔ پاکستان اور پاکستانیوں کی کامیابی، فتح، کسی خوبی کا سن کر ان کا سینہ فخر سے پھول جاتا، سر بلند ہوجاتا ہے۔ جہاں ناکامی، خامی یا کمزوری کا علم ہو تو اسی طرح شدید افسوس، رنج، دکھ بھی ہوتا ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس پر ان کا اختیار نہیں۔ جیتے جی یہی چکر چلے گا۔
اب جو رہتے ہی پاکستان میں ہیں، جن کا جینا مرنا یہیں ہیں، باہر جا کر سیٹل ہونے کا امکان بھی نہیں تو ان کا تو سب کچھ یہیں سے جڑا ہے۔ سب یہیں داؤ پر لگا ہے۔ وہ کیسے بے نیاز ہوسکتے ہیں؟
ویسے بھی غیر جانبداری، لاتعلقی اور بے پروائی کا تأثر دینے کی بات پر مجھے یوں لگتا ہے جیسے (خدانخواستہ )کسی کا بیٹا بگڑ گیا ہے، بری صحبت میں پڑ گیا اور وہ اسے اپنے حال پر چھوڑ کر اپنے دوستوں کے ساتھ گپیں لگا رہا، گلچھرے اڑا رہا ہے۔
ممکن ہے کوئی ایسا کر بھی گزرے مگر کسی بری خبر پر وہ سکون سے نہیں بیٹھ سکے گا، دل پر ضرب تو پڑے گی ہی۔
اس لیے براہ کرم زیادہ سیانے نہ بنیں، ڈھیر پریکٹیکل اور ٹو مچ میچور ہونے کا فیک تأثر نہ دیں۔ ہم جانتے ہیں اندر سے آپ بھی اتنے ہی دکھی ہیں، ہمارے جتنی ہی آگ آپ کے باطن میں بھی بھڑک رہی ہے۔
اس لیے براہ کرم یہ غیرجانبدار اور بے نیاز ہونے کا ڈھونگ چھوڑیں۔ مل کر افسوس کریں، ماتم کریں، اس ٹیم، اس ٹیم مینجمنٹ، کوچز، سلیکٹرز، کرکٹ بورڈ کا پوسٹ مارٹم کریں۔ کھل کر تجزیہ کریں اور فارم سے عاری سپر سٹارز اور نام کے ’پریمئیر بولر‘ پر سوال اٹھائیں۔
آخر کیا فرق ہے پاکستان اور انڈیا میں؟ دونوں ملکوں کی ٹیموں میں؟ سب سے بنیادی کہ انہوں نے میرٹ پر ٹیم سلیکٹ کی ہے اور کے راہول، شبمن گل جیسے بڑے کھلاڑیوں کو باہر بٹھا کر ان سے بہتر کھلاڑیوں کو مواقع دے کر سٹار بنایا۔ سینیئر بلے باز کو ڈراپ کر کے نوجوان ایشان کشن کومواقع دیے۔

پاکستان کے خلاف میچ میں ایشان کی بیٹنگ آپ نے دیکھ ہی لی۔ انڈیا میں ورلڈ کپ جیتنے والے روہت شرما اور ورلڈ کپ جتوانے والے وراٹ کوہلی کو اس فارمیٹ سے باہر کر دیا جاتا ہے جہاں ان سے بہتر نوجوان کھلاڑی جگہ لینے کو موجود ہوں۔ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
اس لیے حضور والا غیر جانبداری، لاتعلقی، بے نیازی چھوڑیں، اس کے بجائے ان چیزوں کو ٹھیک کرنے کے لیے آواز اٹھائیں۔ وہ عوامی پریشر بنائیں جو انہیں مجبور کرے کہ چلے ہوئے کارتوسوں اور نالائق دامادوں سے جان چھڑائی جائے۔
آل راؤنڈرز کی بھرمار کر کے جیت کا جھوٹا خواب دیکھنے والے اوسط درجے کے کوچز پر بھی سوال اٹھائیں، جسے یہ نہیں معلوم کہ آخر کار سپیشلسٹ بلے باز ہی بڑے میچز جتواتے ہیں اور حقیقی آل راؤنڈر نہ ہوں تو ٹوٹے پھوٹے آدھا تیتر، آدھا بٹیر ٹائپ کھلاڑی آل راؤنڈرز نہیں کہلا سکتے۔
یہ سب باتیں ہونی چاہییں مگر یہ دلچسپی لینے سے ہوں گی۔ تکلیف تو پہنچ رہی ہے مگر یہی تکلیف ہی اصلاح کی طرف لے کر جاتی ہے، ورنہ یاد رکھیں کہ اپنا ملک، اپنی قوم اور اپنی قومی ٹیم عاق نہیں کی جا سکتی۔ آپ چاہیں تب بھی اپنے ملک، قوم، قومی ٹیم کی طرف سے نیوٹرل نہیں ہو سکتے۔
آپ اعلان کر سکتے ہیں کہ آپ نے میچ دیکھنا چھوڑ دیا مگر دل کا رشتہ نہیں چھوڑ سکتے۔ دل نیوٹرل نہیں ہوتا۔ آپ لاتعلق ہونے کا اعلان کر سکتے ہیں مگر بے نیاز نہیں ہو سکتے۔
سو آنکھیں کھولیں، پھر سے کھڑے ہوں اور شتر مرغ کی طرح ریت میں سر دبانے کے بجائے اپنی آواز بلند کریں۔ قومیں اپنی ٹیموں کو عاق نہیں کرتیں، انہیں بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہیں۔
آپ ممکن ہے اکیلے ہوں، کمزور اور ناتواں ہوں مگر جب بہت سی آوازیں اکھٹی ہو جائیں تو وہ توانا اور طاقتور ہو جاتی ہیں۔
یہ تحریر ویسے کرکٹ کو مدنظر رکھ کر لکھی گئی مگر آپ کا دل چاہے تو اسے سیاست پر بھی چسپاں کر سکتے ہیں۔












