Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

کراچی میں 30 کروڑ کا سونا اور ہیرے چُرانے والے ڈکیت 48 گھنٹے میں گرفتار، پولیس کا دعویٰ

پاکستان کے ساحلی شہر کراچی میں ہونے والی سب سے بڑی نقب زنی کی واردات میں ملوث ملزمان کو پولیس نے 48 گھنٹے میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
منگل کو کراچی کے ڈسٹرکٹ ویسٹ کی پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ’اقبال مارکیٹ، پرنس جیولرز میں نقب زنی کرنے والے تمام ملزمان کو گرفتار کر کے 30 کروڑ سے زائد کا مال برآمد کر لیا گیا ہے۔ 
بیان کے مطابق ’ڈی آئی جی ویسٹ زون عرفان بلوچ کی ٹیم نے ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کی نگرانی میں کارروائی کی۔‘
پولیس حکام نے مزید بتایا کہ ’واردات میں شامل ماسٹر مائنڈ عرفان سمیت 6 رکنی گینگ کو گرفتار کیا گیا جبکہ خفیہ ٹھکانے سے سونا، چاندی اور ہیرے برآمد کر لیے گئے۔‘ 
اُن کا کہنا تھا کہ ملزمان نے دیوار کاٹ کر سیف تک رسائی حاصل کی۔ ’دکان کے ملازم عامر نے چابی کی نقل اور دیوار کی مارکنگ کے ذریعے سہولت فراہم کی۔‘
پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ واردات میں استعمال ہونے والا گلینڈر، اسلحہ، موٹرسائیکل اور موبائل فونز بھی قبضے میں لیے گئے ہیں۔
پولیس حکام کے مطابق ملزمان نے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ 6 ماہ قبل منصوبہ بندی کی تھی۔ ’ملزمان کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کیا گیا۔‘
یاد رہے کہ کراچی کی جیولری شاپ میں نقب زنوں نے رات کے وقت دکان کی عقبی دیوار توڑ کر 30 کروڑ روپے مالیت کا 606 تولے سونا، اور 25 لاکھ روپے مالیت کے ہیرے چوری کیے تھے۔
پولیس کے مطابق یہ واقعہ اورنگی ٹاؤن کی اقبال مارکیٹ میں واقع دکان میں پیش آیا۔
دکان کے مالک ایوب خان نے پولیس کو بتایا تھا کہ ’دکان معمول کے مطابق 12 فروری کی رات بند کی گئی تھی، تاہم 14 فروری کی صبح جب دکان کھولی گئی تو معلوم ہوا کہ کسی نے دکان سے سونا، چاندی، ہیرے اور نقدی چوری کرلی۔‘

 

شیئر: