’ناک، کان اور گلا کاٹنے والے‘ گوجرانوالہ کے ’سیریل کِلر‘ کو کیسے پکڑا گیا؟
’ناک، کان اور گلا کاٹنے والے‘ گوجرانوالہ کے ’سیریل کِلر‘ کو کیسے پکڑا گیا؟
بدھ 18 فروری 2026 8:53
رائے شاہنواز -اردو نیوز، لاہور
پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ہارون کو روہڑی کے قریب ٹرین سے گرفتار کیا گیا (فائل فوٹو: ریلوے پولیس)
ریل گاڑی سندھ کے روہڑی ریلوے سٹیشن کے قریب پہنچنے والی تھی اور اس وقت تک ریلوے کے پیغام رسانی کے نظام میں بھونچال آ چکا تھا۔
سٹیشن ماسٹر نے ریلوے پولیس سمیت تمام عملے کو الرٹ کر دیا تھا اور سب کے موبائل فونز ایک ہی تصویر تھی۔ گاڑی آنے میں ابھی آدھے گھنٹے کا وقت تھا۔ اسی دوران لاہور کے ریلوے ہیڈکوارٹرز سے ریل گاڑی میں موجود پولیس اہلکاروں کو بھی وہی تصویر بھیج دی گئی تھی اور یہ حکم دیا گیا کہ روہڑی پہنچنے سے پہلے گاڑی کے ہر ڈبے میں سے اس شخص کو تلاش کیا جائے۔
اتنے ہائی لیول الرٹ کے بعد پولیس اہلکاروں کے ساتھ ریل کے عملے جس میں ٹکٹ چیکر بھی شامل تھے سبھی اس چہرے کو تلاش کر رہے تھے جو ان کے موبائل فون پر موجود تھا۔ حتی کہ ٹرین کے کے واش رومز میں چیک کیے گئے لیکن وہ چہرہ نظر نہ آیا۔ صورت حال سے اعلی حکام کو آگاہ کر دیا گیا۔ تبھی کسی ذہن میں یہ خیال آیا کہ سب مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کیے جائیں۔ اور چلتی ٹرین میں یہ مشق دوبارہ شروع ہو گئی۔ پانچویں بوگی میں جب ریلوے پولیس کا ایک کانسٹبل داخل ہوا اور مسافروں کو شناختی کارڈ چیک کروانے کا کہا۔
وہ ہر شناختی کارڈ پر لگی تصویر ،نام اور کارڈ ہولڈر کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اور پھر جیسے ہی وہ ایک مسافر کے پاس آیا اور شناختی کارڈ دیکھا تو چہرہ شناختی کارڈ پر تھا وہ اس شخص سے مختلف تھا حتی کہ موبائل والی تصویر سے بھی ۔ نام وہی تھا جو اسے بتایا گیا۔ کانسٹبل اسی شش و پنج میں تھا کہ اس اس مسافر نے اسے دھکا دیا اور بھاگنے کی کوشش کی۔ رش کے باعث کانسٹبل اور مسافر گتھم گتھا ہو گئے اور پھر دیگر مسافروں کی مدد سے اس شخص کو قابو کر لیا گیا۔ کانسٹبل نے فوری وائرلیس پیغام دیا کہ ملزم پکڑ لیا۔ جس کے چند منٹ بعد روہڑی سٹیشن بھی آ گیا اور مستعد دستے موجود تھے۔ وہاں پر موجود عملے کو صرف اتنا پتا تھا کہ یہ ایک خطرناک سیریل کلر ہے جس نے چار افراد قتل کیے ہیں۔
یہ سفاک قاتل کون ہے ؟
یہ کہانی پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے شروع ہوتی ہے لیکن اس کہانی کو سمجھنے کے لئے تھوڑا پیچھے جانا پڑے گا تقریبا دو مہینے پہلے یعنی گزشتہ بیس دسمبر کو۔ جب گوجرانوالہ کے محلہ عیدگاہ میں شادی بیاہ کے فینسی کپڑے بنانے والے چھوٹے سے کارخانے کے کاریگر محمد عمران نے اپنے 13 سالہ بیٹے ریحان کو ایک عروسی جوڑا تیار کر کے دیا کہ وہ اس ٹھیکیدار کو دے آئے جس نے یہ آرڈر دیا تھا۔ ایف آئی آر کے مطابق اس جوڑے کی مالیت تقریبا اڑھائی لاکھ روپے تھی۔ ریحان وہ جوڑا لے کر نکلا تو ایک شخص نے اس کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔
اس مقدمے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر عارف چیمہ بتاتے ہیں کہ ’جس شخص نے پیچھا کیا اس کا نام ہارون ہے اور یہ بھی اسی طرح کے عروسی ملبوسات کا کام کرتا ہے۔ اس نے بچے کا پیچھا کیا اور پھر اس کو لدھانوالہ وڑائچ والی سنسان سڑک پر لے گیا اور بچے کو بے دردی سے قتل کر کے اس سے وہ لہنگا چھین لیا اور لاہور میں لے جا کر 40 ہزار روپے میں بیچ دیا۔ بچے کے والد نے مقدمہ درج کروایا کہ بچہ لاپتا ہو گیا ہے۔ یہ علاقہ گوجرانوالہ کے عالم چوک کی طرف ہے پولیس نے بہت کوشش کی لیکن یہ بچہ بازیاب نہ ہو سکا نہ ہی کوئی اور معلومات اس وقت مل سکی۔‘
پولیس کو ملنے والی فوٹیج میں مقتولہ کو ہارون سے ساتھ دیکھا گیا (فوٹو: سکرین شاٹ)
پولیس کے مطابق ہارون نے اس قتل کے بعد اپنے روز کے معمولات جاری رکھے۔ اس 13 سالہ بچے کے والد کو بھی ملتا رہا کیونکہ یہ سب یہی عروسی ملبوسات کا کام کرتے تھے اور اس علاقے درجنوں چھوٹی چھوٹی گھریلو صنعتیں ہیں۔ تقریبا 2 مہینے گزر جانے کے بعد ہارون خود جس محلے میں رہتا ہے اس کے گھر سے چند گھر چھوڑ کے ایک اور کاریگر شفقت عباس کا بھی گھر ہے۔ لیکن شفقت عباس کام لاہور کی مارکیٹ میں کرتے ہیں۔
10 فروری کی ہولناک واردات
پولیس کے ریکارڈ کے مطابق 10 فروری کو ایک ایمرجنسی نمبر پر ایک کال ریسیو ہوتی ہے کہ نہر اپر چناب کے پل کے پاس ایک خاتون اور بچے کی لاش برآمد ہوئی ہے۔
سب انسپکٹر عارف چیمہ بتاتے ہیں کہ ’یہ کال کرنے والا بھی ہارون ہی تھا۔ پولیس موقع پر پہنچتی ہے تو خاتون کی مسخ شدہ لاش ملتی ہے۔ جس کے کان اور ناک کٹے ہوئے تھے جبکہ جسم کو بری طرح سے تیز دھار آلے سے کاٹا گیا تھا جبکہ اس کے ساتھ اس کا پانچ سالہ بچے کی گردن بھی کٹی ہوئی ملتی ہے۔‘
پولیس کو بتایا جاتا ہے کہ خاتون کی ایک 5 ماہ کی بچی بھی غائب ہے۔ جس کی تالاش شروع کر دی جاتی ہے اور تین دن بعد پانچ ماہ کی بچی کی لاش بھی مل جاتی ہے۔
ہارون نے نہ صرف پولیس کو کال کی بلکہ خاتون کے شوہر کو بھی کال کر کے بتایا کہ اس کی اہلیہ اور بچے کی لاش ملی ہے۔ عارف چیمہ بتاتے ہیں کہ ’ملزم نے خاتون کے شوہر کے ساتھ مل کر لاش بھی وصول کی اور سارے معاملات حتی کہ بچی کی تلاش میں بھی ساتھ ساتھ تھا۔ پھر ایک فوٹیج میں موٹر سائیکل پر وہ خاتون دوبچوں کے ساتھ نظر آ گئی اور وہ ہارون کے پیچھے بیٹھی ہوئی تھی۔ جب پولیس اس علاقے میں داخل ہوئی تھی تو ہارون منظر سے غائب ہو گیا۔’
پولیس کا کہنا ہے کہ ہارون کراچی فرار ہونے کی کوشش میں تھا (سکرین شاٹ)
انہوں نے بتایا کہ چند ہی گھنٹوں میں سارا کیس کھل گیا اور فوری طور پر اس کی لوکیشن ٹریس کی جو کہ لاہور ریلوے سٹیشن کی آئی وہاں سے اس نے کراچی کی ٹکٹ کروائی اور ٹرین پر سوار ہو گیا۔ جس کے بعد اس کو ٹرین سے ہی گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور پھر روہڑی کے مقام پر گرفتار کر لیا گیا۔
گرفتاری کے بعد بیان میں ہارون نے بتایا کہ وہ خاتون کو بلیک میل کر رہا تھا۔اور اس کو بچوں سمیت ورغلا کر ساتھ لے کر گیا اور اس سے زیور اور پیسوں کی ڈیمانڈ کی۔ تاہم اسے شک ہو گیا کہ شائد یہ اپنے شوہر کو نہ بتا دے اس لیے اس کے کان کی بالیاں اور ناک میں پہنی پِن چھیننے کا فیصلہ کیا۔
پولیس فائل میں درج ملزم کے بیان کے مطابق اس نے بچوں کے سامنے ماں کا گلہ کاٹا اور کان اور ناک کاٹے۔ پانچ ماہ کی چھوٹی بچی کا گلہ دبا کر مارا اور نہر میں پھینکا جبکہ شور مچانے پر پانچ سالہ بیٹے کو شور مچانے پر اس کا گلہ کاٹ کر نہر میں پھینک دیا۔
اسی بیان میں یہ انکشاف بھی ہوا کہ دو ماہ پہلے 13 سالہ ریحان کو بھی اس نے قتل کیا تھا۔
ملزم کی نشاندہی پر ریحان کی لاش بھی برآمد کی گئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ آلہ قتل ریکور کروانے لیے جب بدھ 17 فروری کو لے جایا جا رہا تھا تو ملزم نے پولیس پر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں گولی لگنے سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔