شانگلہ میں آپریشن، چینی شہریوں پر حملہ کرنے والا ماسٹر مائنڈ کیسے مارا گیا؟
شانگلہ میں آپریشن، چینی شہریوں پر حملہ کرنے والا ماسٹر مائنڈ کیسے مارا گیا؟
بدھ 18 فروری 2026 8:33
ادیب یوسفزئی - اردو نیوز، لاہور
شانگلہ میں آپریشن کے دوران تین دہشت گرد ہلاک مارے گئے تھے
خیبرپختونخوا کے دور افتادہ ضلع شانگلہ کی تحصیل مخوزی میں گزشتہ برس اکتوبر میں خونخوار تیندوے نے ایک بچی پر حملہ کیا جس کے بعد سے علاقے میں خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔
اُردو نیوز نے محکمہ وائلڈ لائف شانگلہ سے رابطہ کیا تو محکمے میں موجود ذرائع نے بتایا کہ ’شانگلہ کے پہاڑوں میں غیر متعلقہ انسانی سرگرمیوں کے باعث یہ خونخوار جانور آبادی کی طرف آرہے ہیں۔‘
اس حوالے سے ذرائع نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا تھا کہ یہ غیر متعلقہ افراد ’مبینہ مسلح شرپسند عناصر ہیں جو اب پہاڑوں میں قیام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے جانوروں کی آماجگاہ متاثر ہو رہی ہے۔‘
پیر کی شب اس دعوے کی تصدیق تب ہوئی جب ضلع شانگلہ کے پہاڑوں میں پناہ لیے شرپسند عناصر اور پولیس کے مابین 12 گھنٹے طویل مقابلہ ہوا۔
تحصیل مارتونگ کے پہاڑی علاقے کابلگرام میں پیر اور منگل کی درمیانی شب شروع ہونے والا سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن جھڑپ میں تبدیل ہونے کے بعد روک دیا گیا تھا۔
شانگلہ پولیس کی جانب سے 17 فروری 2026 کو جاری بیان میں کہا گیا کہ کابلگرام کے علاقوں بیلو، مہراب پٹے اور سلیمانی بانڈہ میں ’فتنہ الخوارج‘ کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع پر شانگلہ پولیس، ایلیٹ فورس خیبر پختونخوا اور سی ٹی ڈی نے مشترکہ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن شروع کیا۔
بیان کے مطابق دہشت گردوں اور پولیس کے درمیان شدید مقابلہ تقریباً 12 گھنٹوں تک جاری رہا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں چھ دہشت گرد مارے گئے جن میں مقامی کمانڈرز نور اسلام عرف خوگ باچا اور صہیب شامل ہیں۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نور اسلام عرف خوگ باچا بشام میں چینی شہریوں پر حملے اور دیگر پولیس چوکیوں پر متعدد حملوں میں ملوث تھا اور اس کے سر کی قیمت 50 لاکھ روپے مقرر تھی۔
یاد رہے کہ 26 مارچ 2024 کو بشام میں ایک خودکش دھماکے میں چھ افراد جان سے گئے تھے جن میں پانچ چینی شہری بھی شامل تھے۔
شانگلہ کے علاقے مخوری میں تیندوے نے 8 سالہ بچی پر حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا (فوٹو: گارڈین)
پولیس کے مطابق مقابلے کے دوران ہیڈ کانسٹیبل مقبول احمد، ہیڈ کانسٹیبل سعید الرحمن اور ہیڈ کانسٹیبل فدا حسین جان سے گئے۔ ان تینوں کی نماز جنازہ پولیس لائن شانگلہ میں سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔
ابتدائی طور پر ضلعی پولیس نے 16 فروری کی شب میڈیا کو بتایا تھا کہ سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کے دوران تین دہشت گرد مارے گئے ہیں اور فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ بعد ازاں 17 فروری کو جاری باضابطہ بیان میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد چھ بتائی گئی۔
پولیس ذرائع نے اُردو نیوز کو بتایا کہ جھڑپ اس وقت شروع ہوئی جب سکیورٹی اہلکاروں کو اطلاع ملی کہ مسلح عناصر ایک غار میں موجود ہیں۔ آپریشن کے بعد پولیس نے لاشیں الپوری منتقل کیں جبکہ مقابلے کے بعد کچھ مسلح افراد پہاڑوں کی طرف فرار ہو گئے۔
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب پولیس واپسی کے دوران کابلگرام اور مارتونگ کے درمیان مبینہ طور پر مسلح افراد نے پولیس پر دوبارہ حملہ کیا۔
اس آپریشن کو قریب سے دیکھنے والے ذرائع نے اُردو نیوز کو بتایا کہ ’16 فروری کی رات جب پولیس واپس جا رہی تھی تو راستے میں دہشت گرد عناصر نے گھیراؤ کیا۔ اس دوران پولیس موبائل اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی صادق شاہ خان کی ذاتی گاڑی مبینہ طور پر مسلح افراد کے قبضے میں آ گئی۔‘
آپریشن کے اگلے روز معلوم ہوا کہ دہشت گرد عناصر نے رات کو 11 بج کر 30 منٹ پر دونوں گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی جو اب بھی اسی مقام پر موجود ہیں۔ اُردو نیوز کو مصدقہ ذرائع نے بتایا کہ مسلح افراد گاڑیوں کے اطراف میں موجود ہیں اور نگرانی کر رہے ہیں تاکہ اگر کوئی انہیں ریسکیو کرنے کی کوشش کرے تو دوبارہ حملہ کیا جا سکے۔‘
علاقہ مکینوں کے مطابق آپریشن ختم ہونے کے بعد رات گئے کابلگرام بازار میں مسلح عناصر کو دوبارہ بھی دیکھا گیا۔ تاہم ان دعوؤں کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس جھڑپ میں چھ دہشت گرد مارے گئے جن میں مقامی کمانڈرز بھی شامل ہیں (فوٹو: شانگلہ پولیس)
ضلعی پولیس کے ترجمان نے اُردو نیوز کو بتایا کہ سال 2025 کے دوران ضلع شانگلہ میں دہشت گردی کے آٹھ واقعات پیش آئے تھے۔ ’ان واقعات میں ایک شہری اور دو پولیس اہلکار جان سے گئے جبکہ ایک مبینہ دہشت گرد مارا گیا تھا۔‘
ترجمان کے مطابق سال 2026 میں اب تک 16 فروری کو ہونے والی اس جھڑپ کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا جس میں چھ دہشت گرد ہلاک اور تین پولیس اہلکار جان سے گئے۔‘
شانگلہ میں مبینہ مسلح گروہوں کی موجودگی کے بارے میں سوال پر ضلعی پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ پولیس مسلسل سرچ اینڈ سٹرائیک آپریشن کر رہی ہے۔
مصدقہ سکیورٹی ذرائع اُردو نیوز کو بتایا کہ ’اس وقت شانگلہ بھر میں تقریبآ 25 تک مسلح عناصر موجود ہو سکتے ہیں۔ ان میں سے آٹھ کا تعلق تحصیل مارتونگ، 9 کا چوگا اور ماچکنڈی سے جبکہ 2 کا تعلق چکیسر سے بتایا جاتا ہے۔ باقی افراد کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دیگر علاقوں سے آئے ہیں۔‘ واضح رہے کہ ان اعداد و شمار کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ پولیس کے پاس ضروری اسلحہ نہیں تاہم ترجمان کے مطابق ’پولیس کے پاس شرپسند عناصر سے نمٹنے کے لیے جدید اسلحہ موجود ہے اور فورس شرپسند عناصر سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔‘
مقامی سطح پر یہ سوال بھی اُٹھایا جا رہا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں موجود شرپسند عناصر کو ختم کیوں نہیں کیا جا سکتا؟ اس حوالے سے پولیس حکام کا کہنا ہے ’یہ علاقہ ایلم پہاڑ کے سلسلے سے جڑا ہوا ہے جو دُشوار گزار ہے اور جغرافیائی طور پر یہاں کارروائی کرنے میں مشکلات حائل ہوتی ہیں۔‘