مملکت میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی کھجوروں کی منڈیوں میں گہما گہمی
حدودِ شرقیہ میں خریداروں کا رش بڑھ گیا ہے جو کھجوروں کی ان اقسام کی تلاش میں ہیں جن کی پیداوار مملکت کے مختلف حصوں میں ہوتی ہے۔
طرح طرح کی اور اعلٰی کھجوریں جن میں عجوہ، سُکری، خلاص اور سقعی شامل ہیں رمضان کے مقدس مہینے کی آمد سے پہلے ہی طلب بڑھ جاتی ہیں۔
ایک خریدار عبداللہ غنام نے بتایا کہ مشرقی ریجن میں کھجور کے درخت کثرت سے پائے جاتے ہیں جس کی وجہ سے یہ علاقہ اِس پھل کی پیداوار کے لیے خاص طور پر مشہور ہے۔
عبداللہ غنام نے بالخصوص الاحسا اور القصیم میں کھجوروں کے فیسٹیول کو اجاگر کیا اور کہا کہ وہاں کی فیملیوں کے پاس بہترین مواقع ہیں کہ وہ رمضان میں ان شہرت یافتہ کھجوروں کے ذائقے کا لطف اٹھائیں۔
کھجوروں کے دکاندار محمد ابراہیم نے زور دے کر کہا کہ الاحسا، مملکت میں کھجوروں کی پیداور میں سب سے بڑھ کر ہے اور معیشت کا ایک اہم وسیلہ بھی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کھجوروں پر انحصار کرنے والی صنعتوں کی وجہ سے بھی کجھوروں اور ان کے درختوں کی افزائش میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اس کے علاوہ مملکت میں ہونے والے کھجوروں کے مختلف فیسٹیول بھی تجارتی اور سماجی طور پر جوش و خروش سے بھرپُور تحریک کو پروان چڑھانے میں سُود مند ثابت ہوتے ہیں اور کھجور کی علاقائی ورائٹیوں کو لوگوں کے سامنے لانے کے لیے تاجروں اور دیگر کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔