Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لمبی قطاریں اور بار بار جانچ، کیا پاکستان میں ایئرپورٹس انتظامیہ ناکام ہو گئی؟

کراچی ایئرپورٹ پر قطاروں میں کھڑے مسافروں کی وائرل ویڈیوز نے سوالات کو جنم دیا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی
پاکستان کے بڑے ایئرپورٹس پر مسافروں کو درپیش مشکلات ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گئی ہیں۔ بیرونِ ملک سفر کرنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں مختلف مقامات پر بار بار پاسپورٹ اور سفری دستاویزات کی جانچ سے گزرنا پڑتا ہے جس کے باعث لمبی قطاریں لگ جاتی ہیں اور کئی گھنٹے صرف امیگریشن اور سکیورٹی کلیئرنس میں گزر جاتے ہیں۔
مسافروں کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں یہ شکایت کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے کہ انتظامیہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق سہولیات فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی ویڈیوز میں خاص طور پر جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کراچی اور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور کا ذکر نمایاں رہا۔ ان ویڈیوز میں مسافروں کو لمبی قطاروں میں کھڑے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ بعض افراد نے فلائٹ کا وقت قریب آنے کے باعث شدید پریشانی کا اظہار بھی کیا۔

مسافروں کی شکایات کیا ہیں؟

کراچی سے بیرون ملک سفر کرنے والے کچھ مسافروں نے ایئرپورٹ پر امیگریشن پراسیس کو اطمینان بخش قرار دیا، جبکہ کچھ مسافروں کا کہنا ہے کہ انتظامات بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
کراچی سے دبئی جانے والے ایک مسافر نے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ان کی پرواز رات دیر گئے تھی لیکن وہ روانگی سے چار گھنٹے قبل ایئرپورٹ پر پہنچنے کے باوجود تقریباً دو گھنٹوں تک امیگریشن کائونٹر پر قطار میں کھڑے رہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ایک ہی دستاویز کئی مرتبہ دکھانی پڑتی ہے۔ پہلے داخلی دروازے پر چیکنگ، پھر ایئرلائن کاؤنٹر، اس کے بعد سکیورٹی اور پھر امیگریشن۔ ہر جگہ علیحدہ قطار ہے۔‘
حیدر آباد سے سعودی عرب جانے والی ایک خاتون مسافر نے شکایت کی کہ ’بزرگ شہریوں اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والوں کے لیے الگ انتظامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہمیں بھی اسی قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے جہاں سینکڑوں لوگ موجود ہوتے ہیں۔‘
کچھ مسافروں کا کہنا ہے کہ ای گیٹس یا خودکار امیگریشن سسٹم جیسے جدید اقدامات متعارف کروانے کی باتیں تو کی جاتی ہیں لیکن عملی طور پر اس کا فائدہ عام مسافر کو کم ہی نظر آتا ہے۔

ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق فلائٹس کی تعداد بڑھنے سے رش کی صورتحال پیدا ہوئی۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

ویڈیوز کیوں وائرل ہوئیں؟

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں مسافروں نے موبائل فون کیمرے سے قطاروں کی لمبائی اور ہال میں رش کی صورت حال دکھائی۔ بعض ویڈیوز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امیگریشن کاؤنٹرز کی تعداد مسافروں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے مقابلے میں ناکافی ہے۔
ان ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئیں۔ کچھ افراد نے اسے انتظامی نااہلی قرار دیا تو کچھ نے بڑھتی ہوئی بین الاقوامی پروازوں اور سکیورٹی تقاضوں کو اس کی وجہ بتایا۔

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کا مؤقف

پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ترجمان سیف اللہ کے مطابق ادارہ ہوائی اڈوں پر آپریشنل سہولیات فراہم کرتا ہے اور جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اپنی ڈیزائن گنجائش کے مطابق کام کر رہا ہے جہاں امیگریشن کاؤنٹرز کی مناسب تعداد موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مسئلہ کاؤنٹرز کی کمی نہیں بلکہ ان پر تعینات عملے کی تعداد کا ہے جس کا ذمہ دار وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) ہے، جبکہ مسافروں اور سامان کی سکیورٹی چیکنگ ایئرپورٹ سکیورٹی فورس انجام دیتی ہے۔ حالیہ سکیورٹی صورتِ حال کے باعث چیکنگ کے مراحل میں اضافہ ہوا ہے اور پیک اوقات میں متعدد بین الاقوامی پروازوں کی بیک وقت روانگی سے عارضی رش پیدا ہو جاتا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’اضافی سکیننگ مشینوں کی تنصیب اور ٹرمینل کے ڈومیسٹک حصے کے بہتر استعمال سمیت مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، اور تمام متعلقہ اداروں سے رابطے میں رہ کر مسافروں کی سہولت اور آپریشنل روانی بہتر بنانے کی کوشش جاری ہے۔‘

سال 2025 کے دوران تقریباً 73 ہزار مسافروں کو بیرون ملک روانگی سے قبل آف لوڈ کیا گیا۔ فائل فوٹو: اے ایف پی

انہوں نے کہا کہ ’ایئرپورٹ پر مختلف ادارے اپنے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں۔ سکیورٹی، کسٹمز، امیگریشن اور ایئرلائنز کا عملہ الگ الگ ذمہ داریاں ادا کرتا ہے۔ ہر مرحلے کی اپنی قانونی اہمیت ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔‘
ترجمان کے مطابق ’حالیہ مہینوں میں ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جس کے باعث مسافروں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ ہم اضافی کاؤنٹرز کھولنے اور عملے کی تعداد بڑھانے جیسے اقدامات پر کام کر رہے ہیں تاکہ مسافروں کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑے۔‘

ایف آئی اے کیا کہتی ہے؟

امیگریشن کا عمل ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ کراچی میں ایف آئی اے کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’مسافروں کی جانچ کا عمل مکمل کیے بغیر کسی کو کلیئر نہیں کیا جا سکتا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’ہماری اولین ترجیح سکیورٹی ہے۔ ہر مسافر کے کوائف کی تصدیق اور سفری دستاویزات کی مکمل جانچ ضروری ہے۔ ہم عوام کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بعض اوقات رش زیادہ ہونے کی وجہ سے تاخیر ہو جاتی ہے۔‘
ترجمان کے مطابق بیرون ممالک سفر کرنے والے مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے رواں ماہ فروری 2026 میں سینیٹ اراکین کو فراہم کی گئی معلومات میں بتایا گیا ہے کہ سال 2025 کے دوران تقریباً 73 ہزار مسافروں کو بیرون ملک روانگی سے قبل آف لوڈ کیا گیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے لگ بھگ 45 ہزار افراد کو تکنیکی وجوہات، جیسے سفری دستاویزات میں خامیوں یا ضابطہ جاتی تقاضے پورے نہ ہونے کی بنیاد پر روکا گیا، جبکہ تقریبا 28 ہزار افراد کو دیگر قانونی یا انتظامی اسباب کی بنا پر جہاز میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

نظام میں رکاوٹیں کہاں ہیں؟

ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف عملے کی کمی تک محدود نہیں بلکہ انفراسٹرکچر اور ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے بھی جڑا ہوا ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں بائیومیٹرک ای گیٹس، آن لائن پری کلیرنس اور خودکار پاسپورٹ کنٹرول سسٹمز کے ذریعے مسافروں کے انتظار کے وقت کو کم کیا گیا ہے۔
پاکستان میں بھی ایسے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے، تاہم ان پر مکمل عملدرآمد میں وقت لگ رہا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ عملے کی تربیت اور اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی بھی ضروری ہے۔

مسافروں نے کہا ہے کہ صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔ فائل فوٹو: اے پی پی

بڑھتی ہوئی سفری سرگرمیاں

حکام کے مطابق حالیہ عرصے میں خلیجی ممالک، یورپ اور مشرقِ بعید جانے والی پروازوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد، طلبہ اور سیاحوں کی تعداد بھی بڑھی ہے۔ اس اضافے نے ایئرپورٹس کے موجودہ نظام پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
سول ایوی ایشن کے ایک سابق افسر کا کہنا ہے کہ ’اگر مسافروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہو تو صرف بیانات سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ اس کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع ضروری ہے۔‘

مسافروں کی توقعات کیا ہیں؟

پاکستان کے بڑے ایئرپورٹس پر بڑھتے ہوئے رش اور طویل قطاروں کے باعث مسافروں کی مشکلات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جن کا یہ کہنا ہے کہ فوری نوعیت کے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق سب سے اہم ضرورت امیگریشن اور سکیورٹی کاؤنٹرز کی تعداد میں اضافہ ہے تاکہ پروسیسنگ کا وقت کم کیا جا سکے اور خاص طور پر پیک اوقات میں پیدا ہونے والے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔
مسافروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ انتظامات بڑھتی ہوئی سفری سرگرمیوں کے مقابلے میں ناکافی دکھائی دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اوقات گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے اور پرواز کا وقت قریب آنے پر بے چینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔
مسافروں کی ایک بڑی تعداد اس بات پر بھی زور دیتی ہے کہ بزرگ شہریوں، معذور افراد اور بچوں کے ساتھ سفر کرنے والی خاندانوں کے لیے علیحدہ قطاروں اور خصوصی سہولیات کا انتظام ہونا چاہیے۔

حکام کے مطابق بیرون ملک جانے والوں کے قانونی سفری دستاویزات کی جانچ میں وقت لگتا ہے۔ فائل فوٹو: اے پی پی

ان کا کہنا ہے کہ ’دنیا کے کئی بین الاقوامی ایئرپورٹس پر ایسے انتظامات معمول کا حصہ ہیں، جہاں کمزور یا خصوصی توجہ کے مستحق مسافروں کو ترجیحی بنیادوں پر کلیئر کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس ماڈل کو مؤثر انداز میں اپنایا جا سکتا ہے تاکہ انسانی ہمدردی کے تقاضے پورے ہوں اور سفری تجربہ بہتر بنایا جا سکے۔‘
علاوہ ازیں مسافروں نے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی زور دیا ہے، جن میں بائیومیٹرک ای گیٹس، خودکار پاسپورٹ کنٹرول سسٹمز اور آن لائن پری کلیرنس جیسے اقدامات شامل ہیں۔
ان کے مطابق ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے سے نہ صرف وقت کی بچت ممکن ہے بلکہ شفافیت میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے اور انسانی غلطیوں یا غیر ضروری تاخیر کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
شکایات کے ازالے کے حوالے سے بھی مسافروں کی توقعات واضح ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’فعال اور مؤثر ہیلپ ڈیسک قائم کیے جائیں جہاں تربیت یافتہ عملہ موجود ہو، جو رہنمائی فراہم کرنے کے ساتھ مسائل کا حل بھی پیش کرے۔ شکایات درج کروانے کا واضح طریقہ کار بھی مسافروں کے اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔‘

 

شیئر: