Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

لاہور: ہاسٹل کی چھت سے گرنے سے طالبہ کی موت، وجہ خودکشی، قتل یا حادثہ؟

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں قائم فاطمہ جناح میڈیکل یونیورسٹی کی 22 برس کی طالبہ فریحہ ہاسٹل میں گرنے سے چل بسیں۔ 
ابتدائی طور پر یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ طالبہ نے کالج کی عمارت کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی ہے، تاہم بعد ازاں انتظامیہ کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ ایک افسوس ناک واقعے کے باعث اُن کی موت ہوئی ہے۔ 
اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کی جانب سے ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ منگل کی شام قریباً 7 بج کر 15 منٹ پر پیش آیا۔ 
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اطلاع ملنے پر انتظامیہ فوراً موقعے پر پہنچی گئی اور متاثرہ طالبہ کو طبی امداد کے لیے سر گنگا رام ہسپتال منتقل کیا گیا۔ 
اس وقت پولیس نے بتایا تھا کہ طالبہ کی حالت تشویش ناک ہے اور وہ ہاسٹل میں رہائش پذیر تھیں۔
پولیس حکام کے مطابق فریحہ کا تعلق پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر سے تھا اور وہ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں مقیم تھیں۔
ابتدائی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے ہاسٹل کی تیسری منزل سے چھلانگ لگائی، تاہم یونیورسٹی انتظامیہ کے موقف میں اپنایا کہ وہ تیسری منزل پر چہل قدمی کر رہی تھیں کہ اچانک سر چکرانے کے باعث نیچے گر گئیں۔
 پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ آیا طالبہ نے خودکشی کی کوشش یا کسی نے انہیں دھکا دیا۔ 
واقعے کے فوراً بعد پولیس کی بھاری نفری ہاسٹل پہنچ گئی اور شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس کے مطابق خودکشی کرنے کی ممکنہ وجوہات کا تعین بھی کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی رائے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئیں گی۔
یونیورسٹی کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبہ حادثاتی طور پر ہاسٹل میں گری تھیں اور انتظامیہ نے فوری طور پر انہیں ہسپتال منتقل کیا۔ 
رپورٹ میں کہا گیا کہ یونیورسٹی نے طالبہ کی دیکھ بھال کے لیے پانچ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا اور انتظامی افسران بھی ہسپتال میں موجود رہے۔
 اس کے ساتھ ساتھ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے پانچ رکنی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی قائم کی گئی تاکہ انکوائری کر کے جلد سے جلد رپورٹ پیش کی جا سکے۔

 

شیئر: