Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکے، ’متاثرین کے خاندان آج بھی انصاف کے منتظر‘

18 فروری 2007 کی رات سمجھوتہ ایکسپریس میں دھماکوں نے نہ صرف درجنوں خاندانوں کو اجاڑ دیا بلکہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان عوامی رابطوں کی ایک اہم علامت کو بھی گہرا زخم لگایا۔
 دہلی سے لاہور آنے والی مسافر ٹرین سمجھوتہ ایکسپریس اپنے معمول کے مطابق سرحد کی جانب رواں دواں تھی۔ یہ ٹرین برسوں سے ان خاندانوں کے لیے امید کی ایک ڈور بنی ہوئی تھی جو تقسیم کے بعد بچھڑ گئے تھے یا جن کے رشتے دونوں ممالک میں پھیلے ہوئے تھے۔
اس رات بھی بوگیوں میں سوار زیادہ تر مسافر پاکستانی شہری تھے جو اپنے عزیزوں سے ملنے کے بعد واپسی کر رہے تھے۔
رات تقریباً پونے 12 بجے ہریانہ کے علاقے دیوانہ، پانی پت کے قریب اچانک دو بوگیوں میں زور دار دھمماکے ہوئے اور فوراً ہی آگ بھڑک اٹھی اور دونوں بوگیاں شعلوں کی لپیٹ میں آ گئیں۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ ’اس وقت زیادہ تر مسافر سو رہے تھے اور دھماکوں کی آواز سے اٹھے، چند ہی لمحوں میں بوگیوں میں دھواں بھر گیا، روشنی کا نظام متاثر ہوا اور لوگوں کو کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا ہو رہا ہے۔ دروازے بند تھے، کھڑکیوں پر سلاخیں لگی تھیں اور آگ تیزی سے پھیل رہی تھی۔ کئی افراد نے جان بچانے کے لیے کھڑکیوں سے کودنے کی کوشش کی، مگر شعلوں اور دھوئیں نے انہیں مہلت نہ دی۔‘
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں 68 افراد ہلاک ہوئے جن میں 43 پاکستانی شہری شامل تھے جبکہ درجنوں افراد شدید زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔ کئی لاشیں اس قدر مسخ ہوئیں کہ شناخت کے قابل نہ رہیں جس سے ورثا کی اذیت میں مزید اضافہ ہوا‘
متاثرہ خاندانوں پر قیامت بن کر ٹوٹنے والی خبر آج بھی ایسا زخم ہے جو ابھی تک نہیں بھر پایا۔

سمجھوتہ ایکسپریس میں سوار زیادہ تر مسافر پاکستانی شہری تھے جو اپنے عزیزوں سے ملنے کے بعد واپسی کے سفر پر تھے: فوٹو اے ایف پی 

سمجھوتہ ایکسپریس کی تاریخ خود پاکستان اور انڈیا کے تعلقات کے نشیب و فراز کی عکاسی کرتی ہے۔
1971 کی جنگ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ریلوے روابط منقطع ہو گئے تھے اور سرحد کے دونوں جانب بسنے والے خاندانوں کے لیے سفر تقریباً ناممکن ہو گیا تھا۔
1972 کے شملہ معاہدے کے بعد اعتماد سازی کا محدود سا ماحول بنا اور بالآخر 1976 میں دہلی اور لاہور کے درمیان ریلوے سروس بحال کی گئی، جسے ’سمجھوتہ ایکسپریس‘ کا نام دیا گیا۔ اس سروس کا مقصد سیاسی اختلافات کے باوجود عوامی سطح پر رابطوں کو برقرار رکھنا تھا۔
2001 میں انڈین پارلیمنٹ پر حملے کے بعد یہ سروس معطل کر دی گئی تھی مگر 2004 میں جامع مذاکراتی عمل شروع ہونے پر اس کو دوبارہ بحال کیا گیا۔
2007 کا یہ سانحہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری تھی اور اعتماد سازی کے اقدامات کو آگے بڑھانے کی کوشش ہو رہی تھی۔

رات تقریباً پونے بارہ بجے ہریانہ کے علاقے دیوانہ، پانی پت کے قریب اچانک دو بوگیوں میں زور دار دھماکے ہوئے: فوٹو اے ایف پی 

حملے کے بعد تحقیقات کا معاملہ انڈیا کی تحقیقاتی ایجنسیوں کے سپرد کیا گیا اور بعدازاں کیس نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو منتقل ہوا۔
تفتیش کے دوران مبینہ طور پر ہندو قوم پرست انتہا پسند عناصر کے ملوث ہونے کا دعویٰ سامنے آیا اور سوامی آسیم آنند سمیت چند افراد کو گرفتار کیا گیا۔ 
مارچ 2019 میں خصوصی عدالت نے شواہد کو ناکافی قرار دیتے ہوئے تمام ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا۔
عدالت کے مطابق استغاثہ اپنے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اس فیصلے کے بعد متاثرین کے اہلِ خانہ میں شدید مایوسی پھیل گئی جبکہ پاکستان کی جانب سے بھی اس پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوئے۔

1972 کے شملہ معاہدے کے بعد دہلی اور لاہور کے درمیان ’سمجھوتہ ایکسپریس‘ کے نام سے ٹرین سروس بحال کی گئی: فوٹو اے ایف پی

پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ضروری ہے۔ سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے کے متاثرین اور ان کے خاندان آج بھی انصاف کے منتظر ہیں اور انصاف کی عدم فراہمی دو طرفہ اعتماد کے لیے نقصان دہ ہے۔
واقعے کے بعد سمجھوتہ ایکسپریس سروس عارضی طور پر معطل کی گئی، بعدازاں بحال تو ہوئی مگر سخت حفاظتی انتظامات اور مسافروں کے ذہنوں میں موجود خوف نے اس سفر کو پہلے جیسا نہ رہنے دیا۔ ہر روانگی کے وقت سخت جانچ پڑتال معمول بنی اور مسافروں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے نئے ادوار آئے اور یہ ریلوے رابطہ مکمل طور پر بند ہو گیا۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس حملے میں 68 افراد ہلاک ہوئے جن میں 43 پاکستانی شہری شامل تھے: فوٹو اے ایف پی

پاکستان کی جانب سے انڈیا میں تعینات رہنے والے ہائی کمشنر عبد الباسط نے اس سانحے کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک سنگین دھچکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’سمجھوتہ ایکسپریس پر حملہ صرف ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ امن کے عمل پر بھی حملہ تھا۔ جب تک ایسے واقعات کے ذمہ داروں کو شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں انصاف کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا، اعتماد کی فضا بحال نہیں ہو سکتی۔‘ 
ان کا کہنا تھا کہ ’عوامی رابطے ممالک کے درمیان تعلقات کی بنیاد ہوتے ہیں، اگر عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو سفارتی پیش رفت بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ صرف ایک دہشت گرد حملہ نہیں تھا بلکہ ایک انسانی المیہ تھا جس نے دونوں ممالک کے عام شہریوں کو متاثر کیا اور 18 برس گزرنے کے بعد اب بھی متاثرین کے خاندان انصاف اور جواب دہی کے منتظر ہیں۔
یہ سوال اب بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ کیا کبھی وہ دن آئے گا جب یہ رابطہ مکمل اعتماد کے ساتھ بحال ہو گا اور اس سانحے کے متاثرین کو حقیقی انصاف مل سکے گا۔

شیئر: