رمضان کی آمد، مہنگائی کے باعث پاکستانیوں کی ’محدود خریداری‘
رمضان کی آمد، مہنگائی کے باعث پاکستانیوں کی ’محدود خریداری‘
بدھ 18 فروری 2026 11:07
پاکستان میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں گہماگہمی بڑھ جاتی ہے اور لوگ عام مہینوں کی نسبت اس مہینے میں زیادہ خریداری کرتے ہیں۔
جب مسلمان صبح سے شام تک روزے کی حالت میں رہتے ہیں تو وہ سحری کے لیے خاص اہتمام کرتے ہیں اور پھر افطار کے لیے دسترخوان انواع و اقسام کے پکوانوں سے سجاتے ہیں۔
پھل، تلی ہوئی اشیا جیسے کہ پکوڑے اور سموسے، مشروبات اور مختلف میٹھی ڈشز سے روزہ افطار کیا جاتا ہے۔ گلیوں اور محلّوں میں خصوصی سٹالز لگائے جاتے ہیں، رمضان بازار سجتے ہیں جہاں ہر وقت لوگوں کا رش دِکھائی دیتا ہے۔
لیکن اس بار مہنگائی کی وجہ سے یہ رونق ماند پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اب خریداری کے انداز بدل رہے ہیں اور متوسط طبقے کے خاندان محدود خریداری کر رہے ہیں جبکہ دکاندار گذشتہ رمضان کی نسبت کم فروخت کی شکایت کر رہے ہیں۔
مئی 2023 میں مہنگائی کی شرح تقریباً 38 فیصد تک پہنچ گئی جو ملک کی تاریخ میں بلند ترین سطح تھی۔ خوراک اور توانائی (بجلی، گیس اور پیٹرول) کی قیمتوں میں زبردست اضافہ اس کی بڑی وجہ تھی۔
اس کے بعد معاشی حالات بہتر کرنے کے لیے حکومتی اقدامات اپنا اثر دِکھانے لگے اور مہنگائی بتدریج کم ہوتی رہی: مئی 2024 میں تقریباً 11.8 فیصد اور جنوری 2026 میں سالانہ تقریباً 5.8 فیصد ہو گئی۔
تاہم، ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ اگرچہ قیمتیں اب اتنی تیزی سے نہیں بڑھ رہیں لیکن کئی برسوں سے مسلسل قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے یہ ابھی بھی زیادہ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے خاندان رمضان کی خریداری کے دوران معاشی دباؤ محسوس کر رہے ہیں۔
مہنگائی کی وجہ سے متوسط طبقے کے خاندان اس بار محدود خریداری کر رہے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
دکاندار محمد شراز کہتے ہیں کہ ’اس سیزن میں لوگ عموماً کھانے پینے کی دیگر اشیا سمیت کچھ سنیکس جیسے کہ بوندی وغیرہ بھی خریدتے ہیں۔ پچھلی بار کام بہت اچھا تھا، لیکن اس بار مہنگائی کی وجہ سے بل بہت زیادہ آ گئے ہیں اور لوگ انہیں خرید نہیں سکتے۔ کام اس بار بہت سست ہے اور بجلی و گیس کے بل بہت زیادہ آ گئے ہیں۔‘
بہت سے خاندانوں اور طلبا کا کہنا ہے کہ وہ خریداری میں تاخیر کر رہے ہیں اور مہینے کے شروع میں کم مقدار میں چیزیں خرید رہے ہیں جب خوراک کی قیمتیں عموماً بڑھ جاتی ہیں۔
ایک طالبہ وینا افضال نے بتایا کہ ’اگر ہم ایک عام متوسط طبقے کا خاندان ہیں، تو پہلے 10 دنوں میں بہت کم چیزیں خریدی جاتی ہیں۔ اب، جہاں ہمیں زیادہ پھل خریدنے کی ضرورت ہے، ہم آہستہ آہستہ، بس ضرورت کے مطابق خرید رہے ہیں تاکہ زندگی کی بنیادی ضروریات پوری ہوں اور افطار ممکن ہو سکے۔‘
کچھ افراد کا کہنا ہے کہ قیمتیں یکساں طور پر نہیں بڑھتیں بلکہ بدلتی رہتی ہیں۔
گروسری کی خریداری کرنے والے شہری محمد نیاز نے کہا کہ ’وقت کے لحاظ سے یہ زیادہ بہتر ہے۔ پچھلے رمضان کچھ چیزیں مہنگی تھیں لیکن اب وہ سستی ہیں، جو اس وقت سستی تھیں وہ اب مہنگی ہیں۔‘
اس کے باوجود رمضان کے مہینے کے لیے مشہور کچھ روایتی کھانے اب بھی بڑی تعداد میں فروخت ہو رہے ہیں۔
دکان دار محمد رفیق نے بتایا کہ ’تلی ہوئی سویوں کی فروخت بہت زیادہ ہے۔ یہ 50 سال سے فروخت ہو رہی ہے اور بہت جلدی بک جاتی ہیں۔ رمضان کے دوران طلب نمایاں طور پر بڑھ جاتی ہے؛ ورنہ یہ عام وقت میں معمول کے مطابق رہتی ہے۔‘