Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

اونٹ، سعودی عرب کی بائیوٹیک وژن کا حصہ

کنگ فہد میڈیکل ریسرچ سینٹر میں ماہرین نے اونٹوں پر تحقیق کے لیے ورکشاپ میں شرکت کی (فوٹو: کنگ فہد سینٹر)
جدہ میں واقع شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی کے کنگ فہد میڈیکل ریسرچ سینٹر نے حال ہی میں اونٹوں پر تحقیق کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کاعنوان تھا ’اونٹ، صحت میں جدت اور بائیو ٹیکنالوجی کے دوراہے پر۔‘
اس ورکشاپ میں اونٹوں میں (بیماریوں سے بچاؤ سے متعلق) پائے جانے والے سٹریٹیجک امکانات کو قومی حیاتیاتی وسیلے کے طور پر نمایاں کیا گیا جو سعودی عرب کے بائیو ٹیکنالوجی وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
عرب نیوز نے ایک پریس ریلیز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ماہرین اور محققین نے اس بات پر سوچ بچار کی کہ بائیو ٹیکنالوجی کے وسائل کی حیثیت میں کیا اونٹوں کو نینوباڈی پر مبنی علاج کے پلیٹ فارم کے طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے؟
نینوباڈی، ٹیکنالوجی میں مالیکیول جیسی سطح پر حاصل کیے گئے مواد کے ذریعے بیماریوں کی تشخیص اور طریقۂ علاج پر غور کیا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے امراض سے بچنے کے طریقوں، بیماریوں کی تشخیص اور علاج کو نئی جہتیں مل رہی ہیں جو نینومیڈیکل میں جدت کے ایک نئے دور کی طرف اشارہ ہے۔
ورکشاپ کے شرکا نے اونٹوں سے انسانوں کو منتقل ہونے والے وائرس پر بھی گفت و شنید کی جس میں تمام تر توجہ، خطرے کو وقت پر بھانپنے اور ممکنہ مرض کی نگرانی پر مرکوز رہی۔ اس کے علاوہ شرکا نے اونٹ (اور اس کی کھال) سے بننے والی پروڈکٹس کی غذائی اور علاج سے متعلق اہمیت پر بھی غور کیا۔

ورکشاپ کے شرکا نے اونٹوں سے انسانوں کو منتقل ہونے والے وائرس پر بھی گفت و شنید کی (فوٹو: کنگ فہد سینٹر)

ایک رپورٹ کے مطابق اونٹی کا دودھ، عالمی سطح پر دودھ کی کُل پیداوار کا اعشاریہ چار فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں گائے سے 81 فیصد دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔
عالمی سطح پر اونٹی کے دودھ کی شرح انتہائی کم ہونے کے باوجود، خشک اور نیم خشک علاقوں میں اس کا دودھ پائیداری کے باعث اپنی پہچان بنا رہا ہے اور غذائی تحفظ میں معاوِن ثابت ہو رہا ہے۔
مملکت نے سنہ 2024 کو ’اونٹ کا سال‘ نامزد کیا تھا جس کا مقصد جزیرہ نمائے عرب میں اس جانور کی ثقافتی اہمیت کو اعزاز دینا تھا۔
تاریخی طور پر اونٹ صحرائی سفر اور طویل مسافتوں کے لیے لازمی سمجھا جاتا ہے اور مدتوں سے اس کا ذکر علاقائی ادب، سینہ بہ سینہ چلنے والی روایات اور ثقافتی اظہار میں بکثرت ملتا ہے جو مشکلات کے بیچ اونٹ کے خود کو سنبھالنے، وفاداری اور اس کی رفاقت کی ایک علامت ہے۔
سعودی عرب میں اونٹ آج بھی قومی شناخت اور میراث کی ایک زندہ گواہی ہے۔

شیئر: