جدہ میں واقع شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی کے کنگ فہد میڈیکل ریسرچ سینٹر نے حال ہی میں اونٹوں پر تحقیق کے لیے ورکشاپ کا انعقاد کیا جس کاعنوان تھا ’اونٹ، صحت میں جدت اور بائیو ٹیکنالوجی کے دوراہے پر۔‘
اس ورکشاپ میں اونٹوں میں (بیماریوں سے بچاؤ سے متعلق) پائے جانے والے سٹریٹیجک امکانات کو قومی حیاتیاتی وسیلے کے طور پر نمایاں کیا گیا جو سعودی عرب کے بائیو ٹیکنالوجی وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔
عرب نیوز نے ایک پریس ریلیز کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ماہرین اور محققین نے اس بات پر سوچ بچار کی کہ بائیو ٹیکنالوجی کے وسائل کی حیثیت میں کیا اونٹوں کو نینوباڈی پر مبنی علاج کے پلیٹ فارم کے طور پر بروئے کار لایا جا سکتا ہے؟
مزید پڑھیں
-
سعودی عرب میں اونٹوں کے لیے ’پاسپورٹ‘ کے اجرا کا اعلانNode ID: 900333
نینوباڈی، ٹیکنالوجی میں مالیکیول جیسی سطح پر حاصل کیے گئے مواد کے ذریعے بیماریوں کی تشخیص اور طریقۂ علاج پر غور کیا جاتا ہے۔
اس ٹیکنالوجی میں ہونے والی حالیہ پیش رفت سے امراض سے بچنے کے طریقوں، بیماریوں کی تشخیص اور علاج کو نئی جہتیں مل رہی ہیں جو نینومیڈیکل میں جدت کے ایک نئے دور کی طرف اشارہ ہے۔
ورکشاپ کے شرکا نے اونٹوں سے انسانوں کو منتقل ہونے والے وائرس پر بھی گفت و شنید کی جس میں تمام تر توجہ، خطرے کو وقت پر بھانپنے اور ممکنہ مرض کی نگرانی پر مرکوز رہی۔ اس کے علاوہ شرکا نے اونٹ (اور اس کی کھال) سے بننے والی پروڈکٹس کی غذائی اور علاج سے متعلق اہمیت پر بھی غور کیا۔

ایک رپورٹ کے مطابق اونٹی کا دودھ، عالمی سطح پر دودھ کی کُل پیداوار کا اعشاریہ چار فیصد ہے۔ اس کے مقابلے میں گائے سے 81 فیصد دودھ حاصل کیا جاتا ہے۔
عالمی سطح پر اونٹی کے دودھ کی شرح انتہائی کم ہونے کے باوجود، خشک اور نیم خشک علاقوں میں اس کا دودھ پائیداری کے باعث اپنی پہچان بنا رہا ہے اور غذائی تحفظ میں معاوِن ثابت ہو رہا ہے۔
مملکت نے سنہ 2024 کو ’اونٹ کا سال‘ نامزد کیا تھا جس کا مقصد جزیرہ نمائے عرب میں اس جانور کی ثقافتی اہمیت کو اعزاز دینا تھا۔
King Fahd Medical Research Center at #King_Abdulaziz_University organized the Camel Research Workshop under the theme:
“Camels at the Crossroads of Health Innovation and Biotechnology.”The event brought together leading experts to explore the role of camels in advancing… pic.twitter.com/RhEeaK3fQI
— جامعة الملك عبدالعزيز (@kauedu_sa) February 15, 2026











