Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بچپن کی یاد: جازان میں بچیوں کے پہلے روزے کو یادگار بنانے والی مہندی کی روایت

رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی جازان ریجن میں ایسی روایات کو دوبارہ زندہ کیا جاتا ہے جو معاشرے کے اپنے ثقافتی ورثے سے مضبوط تعلق کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں مہندی لگانے کی روایت ہے، جسے خاندان خاص طور ان بچیوں کے پہلے روزے کی خوشی میں مناتے اور تازہ کرتے ہیں۔
خاندان مہندی کو ایک تعلیمی اور حوصلہ افزائی کے طور پر استعمال کرتے ہیں تاکہ کم عمر بچیوں کو روزہ رکھنے کی ترغیب دی جا سکے۔
مہندی کےڈیزائن علامتی معنی رکھتے ہیں جو انہیں کھانے پینے سے پرہیز کی یاد دلاتے ہیں، اور یہ سب ایک خوشگوار ماحول میں ہوتا ہے جو رمضان کی خوشی اور سکون کی عکاسی کرتا ہے۔
رمضان المبارک کے چاند کا اعلان ہوتے ہی بازاروں میں مہندی کے ڈیزائنز بنانے اور مہندی کی کونز خریدنے کا رجحان عروج پر پہنچ جاتا ہے۔
لڑکیاں بڑے شوق سے اپنے ہاتھ مہندی سے سجانے کے لیے مختلف ڈیزائنز استعمال کرتی ہیں۔
حنا آرٹسٹ مریم عواجی نے بتایا کہ ’مہندی کے ذریعے ایسے نقوش ہاتھوں پر بنائے جاتے ہیں جنہیں دیکھ کر لڑکیوں کے ذہن میں روزے کا خیال آتا ہے۔‘
’جب بھی وہ اپنے ہاتھ دیکھتی ہیں تو انہیں یاد آ جاتا ہے کہ وہ روزے میں ہیں اور کھانے پینے سے اجتناب کرنا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ روایت ایک سماجی اقدام کے طور پر کام کرتی ہے جس کی تعلیمی اور ثقافتی اہمیت ہے۔ یہ سادہ مگر بامعنی رسومات کے ذریعے بچیوں کا رمضان کی اقدار اور روحانیت سے تعلق مضبوط کرتی ہے
مریم عواجی کا کہنا تھا کہ ’اس طرح لڑکیوں میں ابتدائی عمر سے روزہ رکھنے کی عادت پختہ ہو جاتی ہے جو ان میں ہمیشہ رہتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ رمضان کے روحانی ماحول سے بھی آشنا ہو جاتی ہیں۔‘

انہوں نے مہندی کے ڈیزائنوں کی اقسام، باریکی اور نفیس تفصیلات کو اجاگر کیا۔ عام ڈیزائن میں ہلال، ستارے، گلاب اور خوبصورت جیومیٹری کے ڈیزائن شامل ہوتے ہیں، جو ایک نفیس فنکارانہ انداز میں تیار کیے جاتے ہیں اور نسل در نسل منتقل ہوتے آئے ہیں۔
یہ روایت جازان ریجن کی ثقافتی اور سماجی زندگی کا ایک اہم حصہ ہے جو خوشی کے مظاہر کو رمضان کی روحانی فضا کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔ یہی امتزاج خاندانوں کے لیے ایک منفرد تجربہ پیدا کرتا ہے اور رسم و رواج کو نسل در نسل منتقل کرتا رہتا ہے۔
 

 

شیئر: