سعودی عرب غزہ کے امدادی پیکیج کے لیے ایک ارب ڈالر دے گا
سعودی عرب مشرق وسطی میں دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے ( فوٹو: العربیہ)
سعودی وزیر مملکت برائے امور خارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ’ سعودی عرب مشرق وسطی میں دیرپا اور منصفانہ امن کے قیام کے لیے مسلسل کوششیں کررہا ہے۔‘
اس مقصد کے تحت فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے ایک ارب ڈالر تک مالی معاونت فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
الاخباریہ مطابق عادل الجبیر نے غزہ کی تعمیرِ نو کے حوالے سے ’غزہ پیس بورڈ‘ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’سعودی عرب کو بورڈ کی سرگرمیوں میں شرکت پرخوشی ہے، جس کا مقصد مشرق وسطی میں منصفانہ اور پائیدار امن کا قیام ہے جو دو ریاستی حل کی راہ ہموار کرے۔‘
انہوں نے کہا کہ’ قیام امن سے مشرق وسطی کا خطہ جنگ کی تباہی سے نکل کر امید و خوشحالی کی جانب گامزن ہو سکتا ہے، جہاں معاشروں میں ہم آہنگی پیدا ہو، وسائل کو یکجا کیا جائے اور خطے کی صلاحیتوں کو بروئے کارلایا جائے۔‘
عادل الجبیر نے شاہ فہد بن عبدالعزیز کی جانب سے پیش کردہ آٹھ نکاتی امن تجاویز کا حوالہ دیا اور کہا ’سعودی عرب طویل عرصے سے خطے میں امن و انصاف کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔‘
وزیر مملکت برائے امورخارجہ نے مزید کہا ’ شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان خطے میں امن، خوشحالی، سلامتی اور باہمی تعاون پرمبنی وژن کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ ’سعودی عرب ’غزہ پیس بورڈ‘ کے ساتھ تعاون کےلیے تیار ہے۔ آئندہ برسوں میں فلسطینی عوام کی مشکلات کو کم کرنے اور خطے میں امن کے کے لیے ایک ارب ڈالر فراہم کرے گا۔‘
خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن میں ’غزہ پیس بورڈ‘ کے پہلے اجلاس کا افتتاح کیا، جس کا بنیادی مقصد غزہ پٹی کی تعمیر نو اورعالمی سطح پرتنازعات کے حل کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔
اجلاس میں 47 ممالک نے شرکت کی جبکہ یورپی یونین نے مبصر کی حثیثت سے حصہ لیا۔ اجلاس میں جنگ سے متاثرہ غزہ کی تعمیرِنواور فلسطینی علاقےمیں استحام کویقینی بنانے کے امور پرغور کیا گیا۔
