’بورڈ آف پیس‘ کا پہلا اجلاس، ٹرمپ غزہ کے لیے فنڈنگ اور فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کریں گے: حکام
صدر ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کا اعلان ستمبر میں سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں کیا تھا (فوٹو: اے ایف پی)
امریکی حکومت کے دو سینیئر عہدیداروں نے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ہفتے ہونے والے غزہ بورڈ آف پیس کے پہلے باضابطہ اجلاس میں تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر اور سٹیبلائزیشن فورس کے حوالے سے مںصوبوں کا اعلان کریں گے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ 19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے اجلاس میں کم سے کم 20 ممالک کے وفود کی شرکت متوقع ہے، جس کی صدارت ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن ڈی سی میں ہونے والے اجلاس میں کم از کم 20 ممالک کے وفود کی شرکت متوقع ہے، جس کی صدارت ٹرمپ 19 فروری کو کریں گے۔
اس سے قبل پہلے اجلاس کے ممکنہ انعقاد کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئی تھیں تاہم یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ اس میں کیا کس بارے میں اعلانات ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے 23 نومبر کو سوئٹرزلینڈ کے شہر ڈیووس میں بورڈ آف پیس کی دستاویز پر دستخط کیے تھے جس کی توثیق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ایک قرارداد کے ذریعے کی گئی تھی۔
مشرق وسطیٰ کے ممالک سعودی عرب، مصر، ترکی اور قطر کے علاوہ انڈونیشیا بھی منصوبے می شمولیت اختیار کر چکے ہیں تاہم عالمی طاقتیں اور روایتی طور پر امریکہ کے اتحادی مغربی ممالک منصوبے کے حوالے سے محتاط نظر آئے ہیں۔
اسی طرح وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کو اسرائیل کے اس بورڈ میں شامل ہونے کا اعلان بھی کیا تھا۔
صدر ٹرمپ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ بورڈ دوسرے عالمی تنازعات بھی حل کرنے کی کوشش کرے گا جس کے بعد بعض مبصرین نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یہ اقوام متحدہ کے مقابلے میں آ سکتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے ہونے والے اس اجلاس میں صرف غزہ سے متعلق معاملات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔
بیان کے مطابق صدر ٹرمپ غزہ کے لیے اربوں ڈالر کا اعلان کریں گے اور ان میں بورڈ میں شامل ارکان کی جانب سے مالیاتی عطیات بھی شامل ہوں گے۔
ایک عہدیدار نے عطیات کی پیشکش کو ’فراخدلانہ‘ قرار دیتے ہوئے ساتھ وضاحت بھی کی کہ امریکہ کی جانب سے ان کے لیے کوئی درخواست نہیں کی گئی تھی بلکہ ممالک خود آفرز لے کر آئے۔
ان کے مطابق ’صدر ٹرمپ جمع ہونے والی رقم کے حوالے سے اعلانات کریں گے۔‘
غزہ میں انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی صدر ٹرمپ کے غزہ پلان کے اگلے مرحلے میں شامل ہے جس کا اعلان پچھلے برس ستمبر میں کیا گیا تھا۔
معاہدے کے پہلے مرحلے کے تحت 10 اکتوبر کو غزہ میں جنگ بندی شروع ہوئی اور حماس نے یرغمالیوں کو رہا کر دیا تھا جس کے بدلے میں اسرائیل نے حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کو رہا کیا۔
امریکی عہدیداروں کا یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ یہ اعلان بھی کریں گے کہ کئی ممالک سٹیبلائزیشن فورس کے ہزاروں کی تعداد میں اپنے فوجی اہلکار فراہم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جن کو آنے والے مہینوں کے دوران غزہ میں تعینات کیے جانے کی توقع ہے۔
غزہ کے معاملے میں اس وقت قابل تشویش امر حماس کے جنگجوؤں کو غیر مسلح کرنا ہے کیونکہ وہ ہتھیار رکھنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دے رہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ پلان کے مطابق حماس کے جو ارکان بقائے باہمی کا عہد کرتے ہوئے ہتھیار رکھ دیں ان کو عام معافی دی جائے گی جبکہ جو ارکان ملک چھوڑنا چاہتے ہیں ان کو ان ممالک میں جانے کے لیے محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا جو ان کو وصول کرنا چاہتے ہیں۔