Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

آسٹریا: گرل فرینڈ کی برفیلے پہاڑ پر موت، ساتھی کو سزا کیوں ہوئی؟

عدالت نے اس سانحے کو ’سنگین غفلت‘ قرار دیتے ہوئے مرد کو غیر ارادی قتل کا مجرم ٹھہرایا (فائل فوٹو: اے ایف پی)
آسٹریا میں ایک ہائیکر کو اس وقت سزا سنائی گئی جب اُس کی گرل فرینڈ شدید سردی میں پہاڑ پر دم توڑ گئی۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب جوڑا سخت سردی میں ایک پہاڑی مہم کے دوران مشکلات کا شکار ہوا اور مرد اپنی ساتھی کو برفانی حالات میں تنہا چھوڑ کر مدد لانے کے لیے واپس لوٹ آیا، مگر وہ زندہ نہ بچ سکی۔
عدالت نے اس سانحے کو ’سنگین غفلت‘ قرار دیتے ہوئے مرد کو غیر ارادی قتل کا مجرم ٹھہرایا۔
33 سالہ خاتون، جس کا نام عدالت کے مطابق کرسٹن جی بتایا گیا، جنوری 2025 میں ہلاک ہوئی۔ وہ اور اس کا 37 سالہ بوائے فرینڈ رات کے وقت آسٹریا کی سب سے بلند چوٹی گروسگلوکنر سر کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس کی بلندی 37  سو 98 میٹر ہے۔ تاہم یہ چڑھائی اس خاتون کے تجربے سے کہیں زیادہ سخت ثابت ہوئی۔
انسبرک کی عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ یہ پہاڑی سفر خاتون کی مہارت سے ’ہزاروں میل آگے‘ تھا اور اس نے خود کو اپنے زیادہ تجربہ کار ساتھی کے بھروسے پر چھوڑ دیا تھا۔ عدالت نے دونوں کو انتہائی ناکافی تیاری اور نامناسب سامان رکھنے پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ برفانی طوفان اور خراب موسم کے باوجود درست فیصلہ نہ کرنا بھی اس سانحے کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔
مرد نے عدالت میں خود کو بےگناہ قرار دیا اور مؤقف اپنایا کہ سفر کے درمیان حالات اچانک خراب ہوئے اور اُس کی گرل فرینڈ ایک مقام پر آگے بڑھنے سے قاصر ہو گئی۔ اُس کے مطابق دونوں نے بات چیت کے بعد فیصلہ کیا کہ وہ خاتون کو وہیں چھوڑ کر نیچے امداد لینے جائے گا۔ لیکن جب امدادی ٹیم پہنچی، وہ برف میں منجمد حالت میں مردہ پائی گئی۔
عدالت میں ایک سابقہ گرل فرینڈ نے گواہی دیتے ہوئے بتایا کہ یہی مرد ایک بار اسے بھی اسی پہاڑ پر ’رات کے اندھیرے میں چھوڑ کر چلا گیا تھا‘ اور کہا تھا کہ وہ سست چل رہی ہے۔
عدالت نے مرد کو پانچ ماہ قید کی سزا اور 94 سو یورو جرمانہ بھی عائد کیا۔ اسے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی حاصل ہے۔

 

شیئر: