ہنڈرڈ لیگ میں پاکستانی کھلاڑیوں کی مبینہ بے دخلی، مائیکل وان کا ای سی بی سے فوری تحقیقات کا مطالبہ
گزشتہ برس صرف دو پاکستانی کھلاڑی محمد عامر اور عماد وسیم اس لیگ میں شامل ہوئے تھے (فوٹوـ اے ایف پی)
انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اُن خبروں کی تحقیقات کرے جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انگلینڈ کی ٹی20 لیگ ’دی ہنڈرڈ‘ میں انڈین ملکیت رکھنے والی ٹیمیں پاکستانی کھلاڑیوں کو نظرانداز کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔
فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے درمیان دیرینہ سیاسی کشیدگی کے باعث دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف صرف آئی سی سی ایونٹس میں ہی کھیلتے ہیں۔ حالیہ ٹی20 ورلڈ کپ میں بھی کولمبو میں ہونے والا میچ تبھی ممکن ہوا جب پاکستان نے ممکنہ بائیکاٹ کی دھمکی واپس لی۔
ایسے میں یہ دعویٰ بھی بارہا سامنے آیا ہے کہ سیاسی معاملات کی وجہ سے پاکستانی کرکٹرز کو انڈین پریمیئر لیگ، جو دنیا کی سب سے منافع بخش ٹی20 لیگ مانی جاتی ہے، میں شامل ہونے سے مؤثر طور پر روک دیا گیا ہے۔
اب جبکہ آئی پی ایل کی کئی فرنچائزز دنیا بھر کی مختلف لیگز میں ٹیموں کی مالک بن چکی ہیں، خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے ان بین الاقوامی لیگز میں جگہ بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق آئندہ ماہ ہونے والی ’ہنڈرڈ‘ کی پلیئرز آکشن میں بھی یہی صورتحال دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ رواں سال 11 اور 12 مارچ کو لندن میں ہونے والی بولی کے دوران یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ چار انڈین ملکیتی ٹیمیں مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز پاکستانی کھلاڑیوں کو جان بوجھ کر نہیں چُنیں گی۔
پچاس سے زائد پاکستانی کرکٹرز نے لیگ کے لیے اپنی دستیابی ظاہر کی ہے جبکہ باقی چار ٹیمیں بھی نیلامی میں حصہ لے رہی ہیں۔ اگرچہ ای سی بی تاحال بی بی سی کی رپورٹ کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا، لیکن مائیکل وان کا کہنا ہے کہ بورڈ کو اس معاملے کی مکمل چھان بین کرنی چاہیے۔
ای سی بی کے ترجمان نے واضح کیا کہ ’دی ہنڈرڈ‘ دنیا بھر کے مرد و خواتین کھلاڑیوں کو خوش آمدید کہتی ہے اور توقع کی جاتی ہے کہ آٹھوں ٹیمیں اس تنوع کو برقرار رکھیں گی۔ گزشتہ برس صرف دو پاکستانی کھلاڑی محمد عامر اور عماد وسیم اس لیگ میں شامل ہوئے تھے، اور وہ بھی تب جب نئے سرمایہ کار شامل نہیں ہوئے تھے۔
