Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایپسٹین فائلز: کنگ چارلس کے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن رہا، ’سخت پریشان لگ رہے ہیں‘

اینڈرویو ماؤنٹ پر ’خفیہ سرکاری دستاویزات جیفری ایپسٹین کو بھیجنے‘ اور عوامی عہدے کے غلط استعمال کا الزام ہے (فائل فوٹو: گیٹی امیجز)
جیفری ایپسٹین سکینڈل کے تحت گرفتار کیے گئے کنگ چارلس کے چھوٹے بھائی اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونڈسر کو جمعرات کی شام رہا کر دیا گیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان کو پولیس نے جیفری ایپسٹین کو خفیہ سرکاری دستاویزات بھجوانے کے الزام اور عہدے کے غلط استعمال کے شبہے میں گرفتار کیا تھا اور پورا دن ان سے پوچھ گچھ ہوتی رہی۔
رواں ماہ کے آغاز میں پولیس کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ وہ ان الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے کہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن نے ایک تجارتی نمائندے کے طور پر کام کے دوران جنسی الزامات میں سزایافتہ جیفری ایپسٹین کو دستاویزات بھیجی تھیں۔
شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن جو کہ تخت کی قطار میں آٹھویں نمبر پر ہیں، کی گرفتاری ایک ایسا واقعہ ہے جس کی جدید ادوار میں مثال نہیں ملتی۔
ان کی گرفتاری کے بعد کنگ چارلس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’مجھے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن کے بارے میں سامنے آنے والی خبروں پر گہری تشویش ہے۔‘
روئٹرز سے تعلق رکھنے والے ایک عینی شاہد نے ان کو انگلینڈ کے علاقے ایلشام میں شام سات بجے ایک پولیس سٹیشن سے نکلتے ہوئے دیکھا، جہاں ان کی فوٹوگرافروں اور ٹی وی کے نمائندوں ایک چھوٹے سے گروپ سے ملاقات بھی ہوئی۔
خبر رساں ادارے نے ان کی ایک ایسی تصویر بھی لی جس میں وہ گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں اور کافی پریشان لگ رہے ہیں۔
اس کے تھوڑی دیر بعد پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ ’گرفتار کیے گئے شخص کو رہا کر دیا گیا ہے۔‘
اگرچہ بکھنگم پیلس کو گرفتاری سے قبل آگاہ نہیں کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد کنگ چارلس نے کہا تھا کہ ’حکام کو خاندان کی جانب سے مکمل حمایت اور تعاون‘ حاصل ہے۔

جیفری ایپسٹین فائلز میں بل کلنٹن سمیت دنیا کی دیگر کئی مشہور شخصیات کے نام شامل ہیں  (فائل فوٹو: اے بی سی)

بیان کے مطابق ’مجھے واضح طور پر کہتا ہوں کہ قانون کو اپنا راستہ لینا چاہیے، اس دوران میں اور میرا خاندان اپنے فرائض اور خدمات کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔‘
کنگ چارلس نے جمعرات کو ایک فیشن شو کا دورہ بھی کیا، مگر اینڈریو کے معاملے سے متعلق عوامی سطح پر کوئی بات نہیں کی۔
آنجہانی ملکہ الزبتھ کے دوسرے بیٹے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن شروع سے ہی جیفری ایپسٹین سے متعلق کسی غلط کام کی تردید کرتے آئے ہیں اور ان کے ساتھ دوستی پر افسوس کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کے دفتر کو بھجوائی گئی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا گیا۔
امریکی حکومت کی جانب سے 30 لاکھ سے زائد فائلز کے اجرا کے بعد سے اینڈریو ماؤنٹ بیٹن نے اس معاملے پر کبھی بات نہیں کی۔
ان فائلز میں کہا گیا ہے کہ ماؤنٹ بیٹنے ونڈسر نے 2010 میں جیفری ایپسٹین کو ویتنام، سنگاپور اور دیگر مقامات کے بارے میں رپورٹس بھیجی تھیں جہاں انہوں نے حکومت کے نمائندہ برائے تجارت و سرمایہ کاری کی حیثیت سے سرکاری دورے کیے تھے۔
جیفری ایپسٹین کے ساتھ قریبی روابط سامنے آنے کے بعد ان کو یہ عہدہ چھوڑنا پڑا تھا۔

شیئر: