Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

سابق شہزادہ اینڈریو کی گرفتاری اور رہائی، برطانوی بادشاہت کو سنگین بحران کا سامنا

برطانیہ کے سابق شہزادہ اینڈریو جمعے کو بادشاہ کی نجی جاگیر میں واقع اپنی رہائش گاہ پر محدود ہو کر رہ گئے، جہاں پولیس کی کئی گھنٹوں کی پوچھ گچھ کے بعد ان کی حیران کن گرفتاری نے برطانوی بادشاہت کو اس دور کے ایک بے مثال بحران میں دھکیل دیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدنام زمانہ شاہی شخصیت کو جمعرات کی رات دیر گئے ’زیرِتفتیش رہائی‘ دے دی گئی، جبکہ خیال کیا جا رہا ہے کہ پولیس جمعے کو بھی لندن کے مغرب میں شاہی ونڈسر سٹیٹ میں واقع ان کے سابق گھر کی تلاشی جاری رکھے ہوئے ہے۔
جنسی جرائم میں ملوث مجرم جیفری اپیسٹین سے روابط کی تحقیقات میں ایک سنسنی خیز پیش رفت کے طور پر، اینڈریو تقریباً 11 گھنٹے حراست میں رہے۔ پولیس نے انہیں بدانتظامی کے شبہے میں گرفتار کیا تھا۔
افسران نے جمعرات کی صبح سویرے مشرقی انگلینڈ کے سینڈرنگھم میں ان کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور انہیں قریبی پولیس سٹیشن منتقل کیا، جبکہ ونڈسر میں ان کے سابق گھر کی بھی تلاشی لی گئی۔
اس پیش رفت کے بعد بادشاہ چارلز سوم نے فوری طور پر ایک دستخط شدہ بیان جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ ’قانون کو اپنا راستہ اختیار کرنا چاہیے‘ اور بکنگھم پیلس کی جانب سے پولیس تحقیقات کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
اس حوالے سے شاہی امور کے ماہر ایڈ اوونز نے کہا کہ ’یہ برطانوی بادشاہت کے لیے نہایت اہم لمحہ ہے‘، اور نشاندہی کی کہ اب بھی کئی امور غیرواضح ہیں، جن میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا اینڈریو پر باقاعدہ فردِ جرم عائد کی جائے گی یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’اس معاملے کے غیریقینی پہلو ہی اصل تشویش کا باعث اور ممکنہ طور پر بادشاہت کے لیے خطرہ ہیں۔‘
برطانیہ کے تقریباً تمام اخبارات نے جمعے کو اپنے صفحۂ اول پر پولیس سٹیشن سے گاڑی میں نکلتے ہوئے اینڈریو کی تصویر شائع کی، جس میں وہ پریشان حال اور مضطرب دکھائی دے رہے تھے۔
ڈیلی میل کی سرخی تھی: ’زوال۔‘
دی سن اخبار نے لکھا کہ دیگر گرفتار افراد کی طرح اینڈریو کے ڈی این اے کا لعابی نمونہ، انگلیوں کے نشانات اور تصویر بھی لی گئی ہو گی۔

برطانیہ کے تقریباً تمام اخبارات نے جمعے کو اپنے صفحۂ اول پر پولیس سٹیشن سے گاڑی میں نکلتے ہوئے اینڈریو کی تصویر شائع کی۔ (فوٹو: اے ایف پی)

’انتہائی افسوسناک‘

برطانیہ میں اس ڈرامائی دن کی گونج دنیا بھر میں سنائی دی، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے ’انتہائی افسوسناک‘ قرار دیا۔
انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ شاہی خاندان کے لیے بہت برا ہے۔‘
اینڈریو کی گرفتاری گذشتہ ہفتے سامنے آنے والے انکشافات کے بعد ہوئی، جن میں بتایا گیا کہ بطور برطانوی تجارتی نمائندہ خصوصی خدمات انجام دیتے ہوئے انہوں نے ممکنہ طور پر ایپسٹین کو خفیہ دستاویزات بھیجی تھیں۔ وہ یہ عہدہ سنہ 2001 سے سنبھالے ہوئے تھے۔
نومبر 2010 کی ایک ای میل، جسے خبر رساں ادارے اے ایف پی نے دیکھا، میں اینڈریو نے امریکی مالیاتی شخصیت کو اپنے ایشیائی ممالک کے دوروں سے متعلق رپورٹس شیئر کی تھیں۔
ایپسٹین کو سنہ 2008 میں امریکہ میں جسم فروشی کے لیے ایک کمسن لڑکی کی فراہمی کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔
سرکاری ہدایات کے مطابق تجارتی نمائندوں پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنے سرکاری دوروں سے متعلق حساس تجارتی یا سیاسی معلومات کو خفیہ رکھیں۔
سابق شہزادے کی حراست کا یہ تضحیک آمیز دن، جو ان کی 66ویں سالگرہ کے موقع پر آیا، ان کے کئی برسوں سے جاری زوال کا سب سے ڈرامائی مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔

’مشکل حالات‘

بادشاہ چارلز سوم نے گذشتہ برس اپنے بھائی سے شاہی خطابات واپس لے لیے اور انہیں ونڈسر کی رہائش گاہ خالی کرنے کا حکم دیا، اگرچہ وہ اب بھی تخت کے وارثوں کی فہرست میں آٹھویں نمبر پر ہیں۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ایپسٹین کی مدعیہ ورجینیا جیوفرے نے اپنی بعد از وفات شائع ہونے والی یادداشتوں میں دعویٰ کیا کہ انہیں تین بار اینڈریو کے ساتھ جنسی تعلقات کے لیے سمگل کیا گیا، جن میں دو مواقع پر ان کی عمر 17 برس تھی۔
اینڈریو ماضی میں ایپسٹین کے ساتھ اپنے تعلقات میں کسی بھی طرح کا غلط کام کرنے کی تردید کر چکے ہیں۔
انہوں نے سنہ 2022 میں امریکہ میں جیوفرے کی جانب سے دائر دیوانی مقدمہ بغیر ذمہ داری تسلیم کیے طے کیا تھا۔
جمعرات کو بادشاہ چارلز نے معمولاتِ زندگی برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے متعدد عوامی فرائض انجام دیے، جن میں لندن فیشن ویک کا افتتاح بھی شامل تھا۔
تاہم شاہی مبصرین کا کہنا ہے کہ بادشاہت کو کئی دہائیوں کے سب سے سنگین بحران کا سامنا ہے۔
شاہی مؤرخ اینا وائٹ لاک نے کہا کہ برطانیہ کی شاہی تاریخ میں صدیوں بعد کسی رکن کی گرفتاری کا یہ پہلا واقعہ ہے- ممکنہ طور پر سنہ 1646 میں چارلز اول کی سکاٹ فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بعد پہلی مثال۔
انہوں نے کہا کہ ’عموماً ’پرسکون رہیں اور کام جاری رکھیں‘ کی روایت اپنائی جاتی ہے، لیکن ان حالات میں یہ نہایت مشکل ہو گا۔‘
سرکاری عہدے میں بدانتظامی کے الزامات کی تحقیقات اس وقت تیز ہوئیں جب گذشتہ ماہ امریکی محکمہ انصاف نے ایپسٹین سے متعلق اپنی تحقیقات کی لاکھوں فائلیں جاری کیں۔
کراؤن پراسیکیوشن سروس کے مطابق اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے۔
برطانیہ کی کم از کم نو پولیس فورسز نے تصدیق کی ہے کہ وہ ایپسٹین فائلز سے متعلق دعوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں، جن میں سے بیشتر کا تعلق اینڈریو سے بتایا جاتا ہے۔

 

شیئر: