امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان گذشتہ برس ہونے والی جنگ کے دوران 11 طیارے مار گرائے گئے۔
جمعرات کو واشنگٹن میں بورڈ آف پیس کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے حوالے سے کہا کہ ’میں انہیں پسند کرتا ہوں، میرا ان سے اور ان کے عظیم فیلڈ مارشل سے تعارف تب ہوا جب جنگ (انڈیا سے) چل رہی تھی۔ پھر جب میری ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے میری چیف آف سٹاف کے سامنے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ صدر ٹرمپ نے ہماری اور انڈیا کی جنگ روک کر ڈھائی کروڑ لوگوں کی زندگیوں کو بچایا۔‘
’میں نے دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کو فون کیا، میں وزیراعظم نریندر مودی کو کافی اچھی طرح جانتا ہوں، جبکہ پاکستان کو میں تھوڑی بہت تجارت کے حوالے سے جانتا تھا۔ میں وزیراعظم (شہباز شریف) اور فیلڈ مارشل کو پسند کرتا ہوں جو کافی اچھے جنگجو ہیں۔ میں اچھے جنگجوؤں کو پسند کرتا ہوں۔‘
مزید پڑھیں
انہوں نے کہا کہ ’میں نے ایک اخبار اٹھایا جس میں لکھا تھا کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ جاری ہے اور پھر چیزیں بد سے بدتر ہوتی گئیں اور کئی طیارے مار گرائے گئے۔ میں نے دونوں کو فون کیا اور کہا کہ اگر آپ جنگ نہیں روکتے تو میں آپ دونوں کے ساتھ تجارتی معاہدہ نہیں کروں گا۔ دونوں نے کہا کہ نہیں نہیں، میں نے کہا کہ اگر آپ جنگ نہیں روکتے تو میں تجارتی معاہدہ نہیں کروں گا۔ اور اس کے بعد دونوں پیچھے ہٹ گئے۔‘
’میں نے کہا تھا کہ اگر آپ جنگ نہیں روکتے تو میں آپ دونوں ملکوں پر 200، 200 فیصد ٹیرف عائد کر دوں گا اور جس کے بعد آپ دونوں کاروبار نہیں کر سکیں گے۔ اس پر ان میں سے ایک نے کہا، میں ان کا نام نہیں لوں گا، کہ نہیں ایسا مت کی جیے گا۔‘
صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بہت بڑی چیز تھی، لوگوں کو اس کا اندازہ نہیں۔ یہ لڑ رہے تھے اور 11 طیارے مار گرائے گئے تھے جو بہت مہنگے تھے۔‘

خیال رہے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ کے دوران گرائے گئے طیاروں کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متعدد دعوے کیے تھے۔ صدر ٹرمپ نے ابتدا میں کہا تھا کہ اس جنگ کے دوران پانچ طیارے مار گرائے گئے۔ اور پھر وہ گرائے گئے طیاروں کی تعداد بڑھاتے رہے۔ انہوں نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ اس جنگ کے دوران 10 طیارے مار گرائے گئے۔
امریکی صدر نے اپنے خطاب کے دوران بورڈ آف پیس کے قیام کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرنے کا وعدہ کیا، جس کی ابتدائی توجہ غزہ پر مرکوز ہو گی۔
خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ نے دنیا بھر سے تقریباً دو درجن اتحادیوں کا واشنگٹن میں سابقہ یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس کی عمارت میں استقبال کیا، جسے ازسرِ نو تعمیر کرکے 79 سالہ ریپبلکن رہنما کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ امریکہ اس منصوبے کے لیے 10 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔ اس اقدام کے اہداف میں غزہ کی تعمیرِ نو شامل ہے، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان دو برس تک جاری رہنے والی جنگ کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ قازقستان، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، مراکش، بحرین، قطر، سعودی عرب، ازبکستان اور کویت وہ ممالک ہیں جو اس اقدام کے لیے مالی وعدے کر رہے ہیں۔
عطیات دہندگان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’خرچ کیا جانے والا ہر ڈالر استحکام اور ایک نئے اور ہم آہنگ خطے کی امید میں سرمایہ کاری ہے۔‘













