’دی ہنڈرڈ ٹورنامنٹ میں انڈین ملکیت کا اثر، پاکستانی کھلاڑی چار ٹیموں سے باہر‘
جمعہ 20 فروری 2026 13:59
سوشل ڈیسک -اردو نیوز
محمد عامر گزشتہ برس ہنڈرڈ ٹورنامنٹ کا حصہ بنے تھے۔ (فوٹو: گیٹی ایمجز)
ٹیلی گراف سپورٹ کے مطابق آئندہ ماہ ہونے والے دی ہنڈرڈ کرکٹ ٹورنامنٹ کی نیلامی میں چار انڈین فرنچائزز پاکستانی کرکٹرز کو سائن نہیں کریں گی۔
اگلے سیزن سے ٹورنامنٹ کی نصف ٹیمیں اب جزوی یا مکمل طور پر انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی ٹیموں کی ملکیت میں آ چکی ہیں، جبکہ آئی پی ایل 2009 سے پاکستانی کھلاڑیوں پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے۔
دی ہنڈرڈ کے نئے مالکان کو انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) کے چیف ایگزیکٹو رچرڈ گولڈ نے متنبہ کیا تھا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ 'ہر قوم کے کھلاڑی تمام ٹیموں کے لیے منتخب کیے جائیں گے' اور یہ کہ امتیازی سلوک کے خلاف پالیسیاں نافذ ہیں۔
تاہم ٹیلی گراف سپورٹ کو معلوم ہوا ہے کہ مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سدرن بریو اور سن رائزرز لیڈز، جو جزوی یا مکمل طور پر آئی پی ایل ٹیموں کو کنٹرول کرنے والی کمپنیوں کی ملکیت ہیں، انڈیا اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سیاسی ردعمل کے خوف سے پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل نہیں کریں گی۔
گزشتہ سیزن دی ہنڈرڈ میں دو پاکستانی کھلاڑی، محمد عامر اور عماد وسیم شریک ہوئے تھے۔ وہ ایڈیشن آخری تھا جس کے بعد نجی سرمایہ کاروں نے کنٹرول سنبھالا۔
اب پاکستانی کھلاڑیوں کو ان چار ٹیموں سے باہر رکھے جانے کا خدشہ ہے، جو دیگر ٹورنامنٹس میں انڈین ملکیت والی فرنچائزز کے طرزِ عمل سے مطابقت رکھتا ہے۔
انٹرنیشنل لیگ ٹی 20، میجر لیگ کرکٹ اور ایس اے 20 میں انڈین ملکیت والی فرنچائزز نے مسلسل پاکستانی کھلاڑیوں کو سائن نہیں کیا۔
جنوبی افریقہ کی ایس اے 20 کی تمام چھ ٹیمیں آئی پی ایل فرنچائز گروپس کی ملکیت ہیں، جن میں وہ چار گروپس بھی شامل ہیں جنہوں نے دی ہنڈرڈ میں سرمایہ کاری کی ہے۔ چار سیزنز کے دوران اس ٹورنامنٹ میں ایک بھی پاکستانی کھلاڑی شامل نہیں رہا۔
پاکستانی کرکٹرز کی نمائندگی کرنے والے ایک ایجنٹ نے ٹیلی گراف اسپورٹ کو بتایا 'یہ تو طے شدہ بات ہے، وہ دنیا بھر میں یہی کرتے آئے ہیں۔ اب جب وہ دی ہنڈرڈ میں بھی شامل ہو چکے ہیں تو مجھے کوئی مختلف صورتحال نظر نہیں آتی۔'
'میں نے ذاتی طور پر آئی ایل ٹی، ایم ایل سی، ایس اے 20 اور اب دی ہنڈرڈ کی فرنچائزز سے رابطہ کیا ہے۔ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل کرنا چاہتے ہیں، مگر انڈیا میں سیاسی دباؤ کے باعث وہ کبھی حکومت کے خلاف جانے کا خطرہ مول نہیں لیں گے۔ وہ اسے تحریری طور پر کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔'
ایک اور ایجنٹ نے بھی پاکستانی کھلاڑیوں پر غیر اعلانیہ پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا 'سرکاری طور پر کوئی لکیر نہیں کھینچے گا، مگر ہم سب جانتے ہیں کہ انڈین ملکیت والی فرنچائزز میں پاکستانی کھلاڑیوں کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ ان ٹیموں کے ساتھ ہمیشہ یہی صورتحال رہی ہے۔'
آئی پی ایل ملکیت والی چار ٹیموں کے علاوہ ویلش فائر کے مالک سنجے گوول بھی انڈین نژاد ہیں۔ اس مرحلے پر یہ واضح نہیں کہ ان کا مؤقف کیا ہوگا۔
نائٹ رائیڈرز فرنچائز گروپ، جو کولکتہ نائٹ رائیڈرز اور کیریبین، یو اے ای اور امریکہ میں ٹیموں کا مالک ہے، انڈین ملکیت کے باوجود بعض لیگز میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل کرنے کے لیے نسبتاً آمادہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے دی ہنڈرڈ میں سرمایہ کاری نہیں کی۔
ای سی بی کے ایک ترجمان نے پاکستانی کھلاڑیوں پر کسی رسمی یا غیر رسمی پابندی سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا 'دی ہنڈرڈ دنیا بھر سے مرد اور خواتین کھلاڑیوں کا خیرمقدم کرتا ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ آٹھوں ٹیمیں نیلامی میں اس کی عکاسی کریں گی۔'
'دی ہنڈرڈ کی نیلامی کے لیے تقریباً ایک ہزار کرکٹرز نے رجسٹریشن کروائی ہے، جن کا تعلق 18 ممالک سے ہے۔ لانگ لسٹ میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے 50 سے زائد کھلاڑی شامل ہیں۔'
