Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

بچوں کے دانتوں کی حفاظت کے لیے سونے سے پہلے کون سی چیزیں نہ دیں؟

مارک برہن نے بچوں کی دانتوں کی حفاظت کے لیے کچھ چیزوں سے پرہیز کا مشورہ دیا ہے (فوٹو: پکسابے)
ایک امریکی ڈینٹسٹ (دندان ساز) بچوں کے دانتوں کی صحت کے حوالے سے آگاہی دے رہے ہیں اور یہ بتا رہے ہیں کہ کون سی عام غذائیں اور گھریلو اشیاء وہ اپنے بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں گے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق سان فرانسسکو کے دانتوں کے ڈاکٹر مارک برہن جو 40 سالہ تجربے کے حامل ہیں، نے انسٹاگرام پر بچوں کے لیے اپنی ’نو گو لسٹ‘ شیئر کی۔
انہوں نے والدین کو بچوں کی ’مسکراہٹ کی حفاظت‘ کے لیے درج ذیل چیزوں سے پرہیز کرنے کا مشورہ دیا۔
سونے سے پہلے دودھ پینا
بچوں کو سونے سے پہلے دودھ دینا ایک عام روایت ہے، لیکن ڈاکٹر مارک برہن نے خبردار کیا کہ یہ عادت دانتوں کے لیے نقصان دہ ہے۔
’دودھ میں قدرتی شکر ہوتی ہے جو رات بھر دانتوں پر رہ جاتی ہے اور بیکٹیریا کے لیے غذا بن جاتی ہے۔ سونے سے پہلے دودھ دینا تو راحت بخش عادت معلوم ہوتی ہے لیکن یہ رات بھر دانتوں پر شکر کی تہہ بنا دیتا ہے۔ دودھ صرف کھانے کے وقت لیا جائے، اور برش کرنے، فلوس کرنے اور زبان صاف کرنے کے بعد صرف پانی پیا جائے۔

ڈاکٹر مارک برہن نے کہا کہ سونے سے پہلے دودھ پینے کی عادت دانتوں کے لیے نقصان دہ ہے (فوٹو: پکسابے)

بچوں کے لیے سپی کپ کا استعمال

بچوں کے لیے’سپی کپ‘ کو والدین ممکنہ طور پر دودھ کو گرنے سے بچانے کے لیے استعمال کرتے ہیں  لیکن ڈاکٹر کے مطابق یہ عادت دانتوں کی نشوونما اور صفائی کے لیے مفید نہیں ہے۔
ان کے مطابق کُھلے کپ استعمال کریں کیونکہ یہ بہتر نگلنے کے طریقے سکھاتے ہیں اور دودھ کی تہہ کو دانتوں پر دیر تک نہیں رہنے دیتے۔

فلیورڈ پانی اور جوس

فلیورڈ یعنی مختلف ذائقوں کے پانی اور جوس کو والدین سودا کا صحت مند متبادل سمجھتے ہیں لیکن ڈاکٹر مارک برہن نے خبردار کیا کہ یہ مرکب جس میں تیزاب اور شکر دونوں شامل ہیں، کیویٹیز پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صرف پانی استعمال کریں۔

ڈاکٹر مارک برہن نے خبردار کیا کہ فلیورڈ پانی اور جوس دانتوں میں کیویٹیز پیدا کرتے ہیں (فوٹو: پیکسابے)

خشک میوہ جات

خشک میوہ بظاہر صحت مند معلوم ہوتا ہے تاہم امریکی ڈاکٹر کے مطابق یہ ’چپچپا شکر بم‘ہوتا ہے۔ خشک میوہ دانتوں میں چپک جاتا ہے اور بیکٹیریا کئی گھنٹوں تک وہاں رہتے ہیں۔‘

پروسیس شدہ کریکرز

پروسسڈ کریکرز جیسے مشہور سنیکس بچوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق یہ ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹس دانتوں کی سطح پر چپچپی تہہ بناتے ہیں جو مولرز کی دراڑوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ کریکرز کے بجائے چیز، سیب یا کرنچی سبزیاں دیں۔
ڈاکٹر مارک برہن نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’مجھ پر بھروسہ کریں، دانتوں میں کیویٹیز کو روکنا بعد میں علاج کروانے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔‘

 

شیئر: