Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

روزہ رکھنے والے افراد کیا کھائیں، کیا پئیں اور کن چیزوں سے پرہیز کریں؟

افطار میں وافر مقدار میں سبزیاں شامل کریں تاکہ ضروری وٹامنز اور غذائی اجزا حاصل ہوں۔ (فوٹو: فیس بک)
رمضان کے دوران سماجی زندگی خاصی متحرک ہوتی ہے اور لوگ افطار کے لیے رشتہ داروں اور دوستوں کو افطار پر مدعو کرتے ہیں یا خود مدعو ہوتے ہیں۔
یہ دعوتیں افطار اور سحری کے دسترخوانوں پر ہوتی ہیں جو عمدہ اور متنوع کھانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس دوران بعض افراد جسمانی سرگرمی کم کر دیتے ہیں جس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے۔ ذیابیطس کے مریض غیر صحت مند غذائی عادات کی وجہ سے اپنی بیماری کو بہتر طور پر کنٹرول نہیں کر پاتے۔
اس پس منظر میں عالمی ادارہ صحت نے رمضان کے لیے کچھ رہنما اصول وضع کیے ہیں جن پر عمل کر کے نہ صرف وزن کم کیا جاسکتا ہے بلکہ بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں بھی کمی لایا جاسکتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے تجویز دی ہے کہ ان عادات کو روزوں کے بعد بھی برقرار رکھا جائے۔
عمومی ہدایات:
وافر مقدار میں پانی پئیں (کم از کم 10 گلاس) اور پانی سے بھرپور غذائیں جیسے سوپ، تربوز اور سبز سلاد استعمال کریں۔
کیفین والے مشروبات جیسے کافی، چائے اور کولا سے پرہیز کریں، کیونکہ کیفین پیشاب کی مقدار بڑھا کر جسم میں پانی کی کمی کا باعث بن سکتی ہے۔ چینی والے مشروبات اضافی کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔
زیادہ درجہ حرارت میں دھوپ سے بچیں اور ٹھنڈی، سایہ دار جگہ پر رہیں۔

افطار میں کیا کھائیں اور کیا نہ کھائیں؟

توانائی بحال کرنے کے لیے متوازن اور صحت بخش افطار کریں۔ روزہ کھولنے کے لیے تین کھجوریں کھائیں، کھجور فائبر کا بہترین ذریعہ ہے۔
افطار میں وافر مقدار میں سبزیاں شامل کریں تاکہ ضروری وٹامنز اور غذائی اجزا حاصل ہوں۔ ثابت اناج استعمال کریں جو توانائی اور فائبر فراہم کرتے ہیں۔

سحری میں سبزیاں، ثابت گندم کی روٹی یا بن، پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے پنیر، دودھ یا انڈا شامل کریں۔ (فوٹو: فیس بک)

گرل یا بیک کیا ہوا کم چکنائی والا گوشت، چکن اور مچھلی استعمال کریں تاکہ صحت مند پروٹین حاصل ہو۔
تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی یا چینی والی پراسیسڈ غذاؤں سے پرہیز کریں۔ آہستہ کھائیں اور حد سے زیادہ کھانے سے بچیں۔

سحری میں کیا کھائیں؟

وہ افراد جو روزہ رکھتے ہیں خصوصاً بزرگ ، نوجوان، حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین روزانہ ہلکی سحری ضرور کریں۔
سحری میں سبزیاں، ثابت گندم کی روٹی یا بن، پروٹین سے بھرپور غذائیں جیسے پنیر، دودھ یا انڈا شامل کریں۔
مٹھائیوں کا استعمال محدود رکھیں، کیونکہ رمضان میں استعمال ہونے والی اکثر مٹھائیاں چینی کے شیرے سے بھرپور ہوتی ہیں۔
میٹھے کے طور پر پانی سے بھرپور پھل جیسے تربوز، خربوزہ یا موسمی پھل مثلاً آڑو یا نیکٹرین بہتر انتخاب ہیں۔

تلنے کے بجائے اسٹیم میں پکانا، ہلکے تیل میں ہلکا فرائی کرنا، سالن میں پکانا یا بیک کرنا بہتر رہے گا۔ (فوٹو: فیس بک)

زیادہ چکنائی والی غذاؤں خصوصاً چربی والے گوشت، پف پیسٹری یا مکھن/مارجرین والی اشیا سے پرہیز کریں۔

نمک اور چکنائی سے متعلق احتیاط:

تلنے کے بجائے اسٹیم میں پکانا، ہلکے تیل میں ہلکا فرائی کرنا، سالن میں پکانا یا بیک کرنا بہتر رہے گا۔
زیادہ نمک والی اشیا جیسے ساسیجز، پراسیسڈ اور نمکین گوشت یا مچھلی، زیتون، اچار، سنیکس، نمکین پنیر، تیار شدہ کریکرز، سپریڈز اور ساسز (مایونیز، مسٹرڈ، کیچپ) سے پرہیز کریں۔
کھانا بناتے وقت نمک کم سے کم استعمال کریں اور دسترخوان پر نمک دان نہ رکھیں۔ ذائقہ بڑھانے کے لیے مختلف جڑی بوٹیاں استعمال کریں۔
اپنی ضرورت کے مطابق مناسب مقدار میں کھائیں اور آہستہ کھائیں، کیونکہ زیادہ کھانا سینے کی جلن اور بے آرامی کا باعث بنتا ہے۔
شام کے اوقات میں باقاعدہ چہل قدمی جیسی ہلکی جسمانی سرگرمی اپنانے کی کوشش کریں۔

 

شیئر: