جزائرفرسان میں ماہ رمضان کی روایات، سماجی اجتماعات، سجاوٹ اور پکوان
تراویح کے بعد بازاروں کی رونقوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
سعودی عرب کے جزائرفرسان میں ماہ رمضان کے دوران قدیم اور روایتی محلے سماجی اجتماعات کے مراکز میں تبدیل ہو جاتے ہیں، جہاں لوگ جمع ہو کر مختلف امور پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔
سعودی خبررساں ایجنسی ایس پی اے کے مطابق جزائرفرسان کے قدیم اور روایتی محلوں میں کھلے مقامات پر خصوصی مجالس کا اہتمام کیا جاتا ہے جو علاقے کی قدیم روایت بھی ہے۔
تراویح کی نماز کے فوری بعد محلے کی گلیوں اور بازاروں کی رونقوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔
اہل محلہ اپنے ساتھ اشیائے خورونوش لاتے ہیں اور دوسروں کو اس میں شریک کرتے ہیں۔
ماہ رمضان میں محلے اور گلیاں برقی قمقموں سے سجا دی جاتی ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں کے لیے سپورٹس کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں۔

رمضان کی رونقوں کو دوبالا کرنے کے لیے بزرگوں کی مجالس میں پرانے زمانے میں سمندری سفر اورغوطہ خوری کے تجربات کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
علاقے کے خاندان روایتی پکوان اور قہوے سے وہاں آنے والوں کی خاطر تواضع کی جاتی ہے، جس سے جزیرہ فرسان کی تہذیب وثقافت نمایاں ہوتی ہے۔

علاقے کے ایک قدیم رہائشی طاھرعباس کا کہنا تھا’ رمضان میں محافل کی روایت عہد قدیم سے جاری ہے،جس پر آج بھی فرسان کے باشندے عمل پیرا ہیں۔‘
’اس کا مقصد ماضی کے رشتے کو برقرار رکھتے ہوئے علاقائی ثقافت کو آنے والی نسلوں میں منتقل کرنا ہے۔‘
