ملک کے سابق رہنما مہاتیر محمد دو ادوار کے دوران 24 سال تک عہدے پر فائز رہے جن میں سے پہلا 1981 سے شروع ہو کر 2003 تک کا تھا جبکہ دوسرا 2018 سے 2020 تک جاری رہا تھا۔
موجودہ ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے جنوری میں مدت کو دو ٹرمز تک محدود کرنے اعلان کیا تھا جبکہ اس وقت بدعنوانی سے نمٹنے اور گورننس کے نظام کو بہتر بنانے کے مطالبات بھی سامنے آئے تھے۔
یہ نکتہ 2022 میں ہونے والے انتخابات کے موقع پر ان کی جماعت کے منشور میں بھی شامل تھا اور وزارت عظمیٰ کی ٹرم کو دو بار تک محدود کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
تاہم دوسری جانب ایسی اصلاحات کے لیے ہونے والی سست کوشش کو عوامی سطح پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا جا رہا ہے۔
مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس اقدام کو اگلے برس ہونے والے عام انتخابات کے لیے شہروں سے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم انور ابراہیم نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ اگر یہ قانون نافذ ہو گیا تو سب سے پہلے اس کا نفاذ خود انہی پر ہو گا۔
2022 میں ہونے والے انتخابات میں انور ابراہیم کی جماعت نے کامیابی حاصل کی تھی (فائل فوٹو: اے ایف پی)
ان کا مزید کہنا تھا کہ 10 برس کا وقت ان لوگوں کے لیے بہت ہے جو موثر انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دینا چاہتے ہیں۔
ان کے مطابق ’میں صرف دوسروں کے لیے قانون نہیں بنا رہا بلکہ اس کو سب سے پہلے مجھ پر لاگو ہونا چاہیے۔‘
طریقہ کار میں اس مجوزہ تبدیلی کے لیے قانون سازوں کی کم سے کم دو تہائی اکثریت چاہیے ہو گی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ایوان زیریں میں اس کو پاس کرنے کے لے ضروری ہے کہ اس کو 222 کے ایوان میں سے 148 کی حمایت حاصل ہو۔
فی الوقت ملک میں ایسی کوئی آئینی حد موجود نہیں ہے جس کے تحت یہ طے ہو سکے کہ کوئی وزیراعظم کتنے عرصے تک خدمات انجام دے سکتا ہے اور اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اس کو ایوان میں اکثریت حاصل رہے۔