نیٹو والے ’ضرورت کے وقت بے کار‘ ثابت ہوئے، کاغذی شیر ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ
نیٹو پر طنز کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ضرورت کے وقت وہ بے کار ثابت ہوئے، یہ کاغذی شیر ہیں‘ (فائل فوٹو: آئی سٹاک)
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے نیٹو کی جانب سے آبنائے ہُرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کی پیش کش کو ایران کی جانب سے دوبارہ کھولنے کے بعد مسترد کر دیا ہے، اور اس اتحاد کو ’دُور رہنے‘ کے لیے کہا ہے۔
اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جمعے کو ایک بیان میں صدر ترمپ نے کہا کہ اب جب کہ آبنائے ہرمز کُھل چکی ہے، مجھے نیٹو کی جانب سے ایک پیغام موصول ہوا جس میں پوچھا گیا کہ کیا ہمیں اتحاد کی مدد کی ضرورت ہے؟
انہوں نے مزید بتایا کہ ’میں نے اُن سے کہا کہ وہ معاملے سے دُور رہیں، ہاں وہ آئیں اگر وہ اپنے بحری جہازوں کو تیل سے بھرنا چاہتے ہیں۔‘
نیٹو پر طنز کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ضرورت کے وقت وہ بے کار ثابت ہوئے، یہ کاغذی شیر ہیں۔‘
اس سے قبل جمعے کو ہی ایران نے دنیا کی ایک انتہائی اہم بحری گرزگاہ ’آبنائے ہُرمز‘ کو تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھولنے کا اعلان کیا تھا۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر ایک بیان میں بتایا تھا کہ ’آبنائے ہرمز تجارتی جہازوں کے لیے مکمل طور پر کھول دی گئی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں جنگ بندی کے دوران پہلے سے طے شدہ راستوں سے جہازوں کی آمدورفت جاری رہے گی اور جنگ بندی کی باقی مدت کے لیے کھلی رہے گی۔‘
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے بیان کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خیرمقدم کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ایران نے ابھی اعلان کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کو کھول دیا ہے اور جہازوں کی مکمل آمدورفت کے لیے تیار ہے۔ شکریہ۔
تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ایرانی جہازوں اور بندرگاہوں کے لیے امریکی ناکہ بندی اس وقت تک ’مکمل طور پر برقرار رہے گی‘ جب تک ایران امریکہ کے ساتھ، جوہری پروگرام پر کوئی معاہدہ نہیں کر لیتا۔
