انہوں نے وہاں موجود 25 افراد کو یرغمال بنا لیا جس کا سلسلہ دو گھنٹے تک برقرار رہا۔ اس دوران نقدی کے علاوہ لاکر کو بھی توڑ گیا اور قیمتوں کو سامان کو بیگوں میں ڈالا گیا۔
مقامی میڈیا کے مطابق کافی دیر تک باہر کسی کو خبر نہیں ہوئی کہ اندر کیا چل رہا ہے، تاہم جب باہر سے کسی نے پولیس کو خبر کی تو وہ حرکت میں آئی۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ پولیس نے پہنچنے پر اندر جانے کی کوشش کی تو دروازہ اندر سے بند تھا، جس پر پولیس ایک کھڑکی کو توڑتے ہوئے اندر داخل ہوئی، تو لوگ اوندھے منہ زمین پر لیٹے ہوئے تھے اور ڈاکو موجود نہیں تھے۔
تاہم جلد ہی پولیس کو ایک سرنگ ملی جس کے راستے وہ فرار ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق تمام یرغمالیوں کو رہا کرا لیا ہے (فوٹو: شٹرسٹاک)
رپورٹ میں ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کچھ پولیس اہلکار اس سرنگ میں گھسے تو وہ ایک گٹر تک گئی ہوئی تھی اور ڈاکو گٹر کے راستے ہی نکلے تھے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ’چور درجنوں کی تعداد میں لاکرز سے چیزیں نکال کر لے گئے ہیں۔‘
جب یہ پوچھا گیا کہ جن باکسز کو لے جایا گیا ان میں کیا سامان تھا تو سورسز کا کہنا ہے کہ کسی کو نہیں معلوم سوائے کلائنٹس کے، کہ ان میں کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد پولیس کی جانب سے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا جس میں 40 افسران کے علاوہ سراغ رساں کتے بھی شامل ہیں، جب کہ موقع سے چوروں کے فنگر پرنٹس اور دوسرے شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہی۔
بینک کی جانب سے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’شکر ہے کہ پولیس نے تیز کارروائی کی اور دن ڈیڑھ بجے کے قریب تمام یرغمالیوں کو بغیر کسی نقصان کے رہا کرا لیا گیا۔‘