Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

ایندھن کی قلت سے پروازیں بند ہونے کا خدشہ، ’ایشیائی ممالک سب سے پہلے متاثر ہوں گے‘

بڑے ہوائی اڈوں کے مقابلے میں چھوٹے اندرونی ہوائی اڈے زیادہ کمزور پوزیشن میں ہوں گے(فائل فوٹو: اے ایف پی)
صنعتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے ہوا بازی کے ایندھن (جیٹ فیول) کی عالمی قلت پیدا ہو رہی ہے جس کے نتیجے میں اگلے دو ماہ کے دوران مسافر پروازیں گراؤنڈ ہو سکتی ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جمعرات کو جاری ہونے والی انتباہی رپورٹس کے مطابق اس بحران سے سب سے پہلے ایشیائی ممالک متاثر ہونے کا امکان ہے جس کے بعد یورپ کی باری آئے گی۔
یہ دونوں خطے اپنی ایندھن کی ضروریات اور ریفائنری سپلائی کے لیے خلیجی ممالک کے تیل پر انحصار کرتے ہیں۔
توانائی کے ماہرِ معاشیات کلاڈیو گالمبرٹی کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال اگلے تین سے چار ہفتوں میں ایک سنگین سسٹمیٹک بحران کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق مئی اور جون کے آغاز سے ہی یورپ میں پروازوں میں بڑے پیمانے پر کٹوتیاں دیکھی جا سکتی ہیں، جبکہ ایندھن کی قلت کی وجہ سے کچھ پروازیں پہلے ہی منسوخ کی جا چکی ہیں۔
ایئر لائنز پر اثرات اور بندشیں
جرمن ایئر لائن ’لوفتھانزا‘ نے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور صنعتی ہڑتالوں کے باعث اپنی ذیلی علاقائی کمپنی کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایئر لائن کے مطابق ’لوفتھانزا سٹی لائن‘ کے تمام 27 طیاروں کو مستقل طور پر فلائٹ پروگرام سے ہٹا دیا جائے گا۔
دوسری جانب ’ایئرپورٹس کونسل انٹرنیشنل یورپ‘ نے یورپی کمیشن کو آگاہ کیا ہے کہ اگر تیل بردار جہازوں (ٹینکرز) نے آبنائے ہرمز سے گزرنا شروع نہ کیا تو مئی کے آغاز سے جیٹ فیول کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی۔

ماہرِ معاشیات ریکو لومین کا کہنا ہے کہ اس قلت کا اثر مختلف ایئر لائنز اور ہوائی اڈوں پر مختلف ہو گا (فائل فوٹو: اے ایف پی)

’تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران‘
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ فاتح برول نے صورتحال کو انتہائی سنگین قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ کے پاس اب صرف چھ ہفتوں کا ایندھن باقی رہ گیا ہے۔
 انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ کی وجہ سے تیل کی ترسیل بلاک رہی تو جلد ہی پروازوں کی منسوخی کی خبریں عام ہو جائیں گی۔
فاتح برول کے مطابق ’یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا توانائی بحران ہے۔ اس سے ہر کوئی متاثر ہو گا، کوئی بھی ملک اس بحران سے محفوظ نہیں ہے۔ جلد ہی ہمیں یہ خبریں ملیں گی کہ ایندھن نہ ہونے کی وجہ سے ایک شہر سے دوسرے شہر جانے والی پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔‘
ماہرِ معاشیات ریکو لومین کا کہنا ہے کہ اس قلت کا اثر مختلف ایئر لائنز اور ہوائی اڈوں پر مختلف ہو گا۔
ان کا خیال ہے کہ بڑے ہوائی اڈوں کے مقابلے میں چھوٹے اندرونی ہوائی اڈے زیادہ کمزور پوزیشن میں ہوں گے۔
ریکو لومین کے مطابق پروازیں مکمل طور پر تو بند نہیں ہوں گی لیکن کئی ایئر لائنز کو اپنے شیڈول میں جزوی منسوخی کرنا پڑے گی۔

شیئر: