’نجدی طرز تعمیر‘ تاریخی اور قدیم جامع مسجد المنسف کی تعمیرِ نو مکمل
نمازیوں کی گنجائش 87 سے بڑھ کر 150 تک ہو گئی ہے۔ (فوٹو: ایس پی اے)
مملکت کی تاریخی مساجد کی تعمیرِ نو اور بحالی کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے تحت پر تیزی سے کام جاری ہے۔ منصوبے کے دوسرے مرحلے کے دوران متعدد مساجد کی تعمیرِ نو کا کام کیا گیا۔
سعودی خبررساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق ریاض ریجن کے شمال مغربی سمت الزلفی کمشنری کے صحرائی علاقے ’نفوذ الثویرات‘ میں تاریخی اور قدیم جامع مسجد المنسف کی تعمیرِ نو کا کام مکمل کرلیا گیا۔
مسجد المنسف سال ہجری 1290 بمطابق 1829 عیسوی میں شیخ علی بن جاراللہ بن غزی نے علاقے کے لوگوں کے تعاون سے تعمیر کی تھی۔
یہ مسجد اپنے محل وقوع کے حوالے سے ماضی میں اہم تھی۔ جغرافیائی حوالے سے الزلفی کمشنری میں واقع ہے جو مملکت اور خلیجی عرب ممالک کا سرحدی علاقہ تھا۔
یہاں سے ارض مقدس کے قافلے آیا کرتے تھے اسی اعتبار سے مسجد کی اہمیت میں اضافہ ہوجاتا تھا۔
تعمیر کے وقت مسجد کا مجموعی رقبہ 200 مربع میٹر تھا جبکہ اس میں 87 افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش تھی۔

مسجد اس دور کے مطابق تعمیر کی گئی تھی جس میں زیر زمین ’خلوہ‘ بھی بنایا جاتا تھا جبکہ مسجد کے اطراف میں بیرونی دیوار اور وضوخانے بھی تھے۔ جنوبی جانب دو مرکزی دروازے تھے۔
مسجد کی تعمیر روایتی نجدی طرز پر کی گئی جس میں چکنی مٹی اور کھجور کے تنوں کا استعمال کیا گیا تھا۔
یہ مسجد اس وقت اہل علاقہ کے لیے جامع مسجد شمار کی جاتی تھی جہاں جمعہ کی نماز باقاعدگی سے ادا کی جاتی اور تحفیظ قرآن کریم کی کلاسوں کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔

تاریخی حوالے سے مسجد متعدد مرتبہ توسیعی مرحلے سے گزری آخری مرتبہ اس کی تعمیر نو 1391 سال ہجری میں کی گئی تھی جس کے بعد اب اسے شہزادہ محمد بن سلمان کے منصوبے کے تحت دوبارہ اسی طرز پر بنایا گیا ہے۔
تعمیرِ نو میں خواتین کے لیے بھی مصلے کا انتظام کیا گیا ہے جبکہ مردانہ اورزنانہ طہارت خانے بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔
مجموعی رقبہ بھی 200 سے بڑھ کر 337 مربع میٹر کردیا گیا جبکہ نمازیوں کی گنجائش بھی 87 سے بڑھ کر 150 تک ہو گئی ہے۔
