Sorry, you need to enable JavaScript to visit this website.

فیفا نے ورلڈ کپ کے دوران پانی کی بوتل سٹیڈیم میں لانے پر پابندی کا فیصلہ کیوں کیا؟

فیفا کے قوانین کے تحت اس سے قبل شائقین ایک دوبارہ استعمال کے قابل ایک لیٹر کی بوتل اپنے ساتھ لا سکتے تھے (فوٹو: گیٹی)
فیفا نے اپنی پالیسی میں آخری لمحے میں تبدیلی کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے شائقین پر یہ پابندی عائد کر دی ہے کہ وہ شمالی امریکہ کے 16 سٹیڈیمز میں ریفل ایبل (دوبارہ بھرنے والی) پانی کی بوتلیں اپنے ساتھ نہیں لا سکتے، جن میں کچھ ایسے سٹیڈیم بھی شامل ہیں جہاں دھوپ سے بچاؤ کے لیے سایہ ساد جگہیں محدود ہیں یا سرے سے ہیں ہی نہیں۔
عرب نیوز کے مطابق جمعرات کو ’سٹیڈیمز سے متعلق ضابطۂ اخلاق‘ میں اس تبدیلی پر ایک برطانوی مداحوں کے ایک گروپ نے شدید تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فیفا نے پہلے یقین دہانی کروائی تھی کہ شائقین پلاسٹک کی خالی بوتلیں اپنے ساتھ لا سکتے ہیں اور انہیں اس ٹورنامنٹ میں دستیاب بلامعاوضہ پانی سے بھر سکتے ہیں، جہاں گرمی اور شدید موسم ایک اہم مسئلہ بن سکتا ہے۔
فری لائنز فین گروپ نے ایک بیان میں کہا کہ ’شائقین کے ذہن میں فطری طور پر فوراً یہ خیال آتا ہے کہ یہ بھی پیسے بٹورنے کا ایک نیا طریقہ ہے۔‘
ٹورنامنٹ جب اگلی جعمرات سے شروع ہو گا تو ورلڈ کپ کے سٹیڈیمز میں فروخت ہونے والا پانی، سافٹ ڈرنکس اور جوسز طویل عرصے سے فیفا کا سپانسر کوکا کولا فراہم کرے گا۔
وائٹ ہاؤس ٹاسک فورس برائے ورلڈ کپ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اینڈریو جیولیانی نے کہا کہ اس فیصلے پر فیفا کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے جمعرات کو میامی میں ورلڈ کپ کی افتتاحی تقریب کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ خدشہ بھی ہے کہ اگر بوتلوں میں کچھ جما ہوا ہو تو اسے پھینک کر بطور ہتھیار استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس معاملے پر ہم ابھی بھی فیفا سے بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے کل ہی اس کا اعلان کیا ہے، اس لیے میں فی الحال کوئی حتمی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا۔‘
فیفا کے صدر جانی انفینٹینو بھی میامی بیچ میں ہونے والے اس ایونٹ میں موجود تھے، تاہم انہوں نے صحافیوں کے سوالات نہیں لیے۔
اینڈریو جیولیانی نے مزید کہا کہ ’شدید گرمی سے نمٹنے اور سکیورٹی خدشات کے درمیان توازن قائم کرنا ضروری ہے۔‘

فیفا کے اس فیصلے پر مداح شدید تنقید کر رہے ہیں اور پیسے بٹورنے کا حربہ قرار دے رہے ہیں (فوٹو: روئٹرز)

انہوں نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ میچز شدید گرم موسم میں ہوں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ شائقین کو پانی تک رسائی ہو تاکہ وہ خود کو ہائیڈریٹ رکھ سکیں۔ ساتھ ہی ہم یہ بھی یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ سب محفوظ رہیں اور کوئی ہتھیار اندر نہ لا سکے۔ اس لیے یہ بات چیت ابھی جاری ہے۔‘
اس سے قبل فیفا کے سٹیڈیم قوانین کے تحت شائقین ایک شفاف، دوبارہ استعمال ہونے والی ایک لیٹر (33.8 اونس) تک کی پانی کی بوتل اپنے ساتھ لا سکتے تھے۔
لیکن منگل کو جاری کی گئی تازہ دستاویز میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’اب کسی قسم کی ری یوز ایبل پانی کی بوتل سٹیڈیم میں لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘
انگلینڈ کے فین گروپ نے کہا کہ ’ہماری تمام بات چیت میں سٹیڈیمز میں مفت پانی کی دستیابی ایک اہم نکتہ تھا اور فیفا نے ہمیں یقین دلایا تھا کہ ایسا ہی ہوگا۔‘
عالمی فٹبال تنظیم نے جمعرات کو جاری ایک بیان میں کہا کہ پھینکے جانے کے لیے استعمال ہو سکنے والی بوتلوں پر پابندی’کھلاڑیوں اور شائقین کو ممکنہ خطرے اور چوٹ سے بچانے‘ کے لیے لگائی گئی ہے۔

انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ بوتلوں میں کچھ جما ہوا تو یہ بطور ہتھیار استعمال کی جا سکتی ہیں (فوٹو: یاہو نیوز)

بیان میں کہا گیا کہ ’فیفا تمام کھلاڑیوں، ریفریز، شائقین، رضاکاروں اور عملے کی صحت اور تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔‘
فیفا کے مطابق 16 میں سے کچھ سٹیڈیمز پہلے ہی بوتلیں لانے پر پابندی لگا چکے تھے، اس لیے اب یہ پالیسی تمام سٹیڈیمز پر لاگو ہوگی۔
امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کے کئی میزبان شہروں میں درجہ حرارت 32 ڈگری سینٹی گریڈ (90 فارن ہائیٹ) یا اس سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔

 

شیئر: